Sabah uyandığında kaygılıydı. Bütün Mısırlı büyücüleri, bilgeleri çağırttı. Onlara gördüğü düşleri anlattı. Ama hiçbiri firavunun düşlerini yorumlayamadı.
صبح ہوئی تو وہ پریشان تھا، اِس لئے اُس نے مصر کے تمام جادوگروں اور عالِموں کو بُلایا۔ اُس نے اُنہیں اپنے خواب سنائے، لیکن کوئی بھی اُن کی تعبیر نہ کر سکا۔
Daha sonra çıkan yedi cılız, çirkin inek ve doğu rüzgarının kavurduğu yedi solgun başaksa yedi yıl kıtlık olacağı anlamına gelir.
جو سات دُبلی اور بدصورت گائیں بعد میں نکلیں اُن سے مراد سات اَور سال ہیں۔ یہی سات دُبلی پتلی اور مشرقی ہَوا سے جُھلسی ہوئی بالوں کا مطلب بھی ہے۔ وہ ایک ہی بات بیان کرتی ہیں کہ سات سال تک کال پڑے گا۔
Sonra mührünü parmağından çıkarıp Yusuf’un parmağına taktı. Ona ince ketenden giysi giydirdi. Boynuna altın zincir taktı.
بادشاہ نے اپنی اُنگلی سے وہ انگوٹھی اُتاری جس سے مُہر لگاتا تھا اور اُسے یوسف کی اُنگلی میں پہنا دیا۔ اُس نے اُسے کتان کا باریک لباس پہنایا اور اُس کے گلے میں سونے کا گلوبند پہنا دیا۔
Yusuf’un adını Safenat-Paneah koydu. On Kenti’nin kâhini Potifera’nın kızı Asenat’ı da ona karı olarak verdi. Yusuf ülkeyi boydan boya dolaştı.
اُس نے یوسف کا مصری نام صافنَت فعنیح رکھا اور اون کے پجاری فوطی فرع کی بیٹی آسنَت کے ساتھ اُس کی شادی کرائی۔ یوسف 30 سال کا تھا جب وہ مصر کے بادشاہ فرعون کی خدمت کرنے لگا۔ اُس نے فرعون کے حضور سے نکل کر مصر کا دورہ کیا۔
Yusuf firavunun hizmetine girdiğinde otuz yaşındaydı. Firavunun huzurundan ayrıldıktan sonra bütün Mısır’ı dolaştı.
اُس نے یوسف کا مصری نام صافنَت فعنیح رکھا اور اون کے پجاری فوطی فرع کی بیٹی آسنَت کے ساتھ اُس کی شادی کرائی۔ یوسف 30 سال کا تھا جب وہ مصر کے بادشاہ فرعون کی خدمت کرنے لگا۔ اُس نے فرعون کے حضور سے نکل کر مصر کا دورہ کیا۔
[] Mısırlılar aç kalınca, yiyecek için firavuna yakardılar. Firavun, “Yusuf’a gidin” dedi, “O size ne derse öyle yapın.”
جب کال نے تمام مصر میں زور پکڑا تو لوگ چیخ کر کھانے کے لئے بادشاہ سے منت کرنے لگے۔ تب فرعون نے اُن سے کہا، ”یوسف کے پاس جاؤ۔ جو کچھ وہ تمہیں بتائے گا وہی کرو۔“