Job 8

فَأَجَابَ بِلْدَدُ الشُّوحِيُّ وَقَالَ:
تب بِلدد سوخی نے جواب دے کر کہا،
«إِلَى مَتَى تَقُولُ هذَا، وَتَكُونُ أَقْوَالُ فِيكَ رِيحًا شَدِيدَةً؟
”تُو کب تک اِس قسم کی باتیں کرے گا؟ کب تک تیرے منہ سے آندھی کے جھونکے نکلیں گے؟
هَلِ اللهُ يُعَوِّجُ الْقَضَاءَ، أَوِ الْقَدِيرُ يَعْكِسُ الْحَقَّ؟
کیا اللہ انصاف کا خون کر سکتا، کیا قادرِ مطلق راستی کو آگے پیچھے کر سکتا ہے؟
إِذْ أَخْطَأَ إِلَيْهِ بَنُوكَ، دَفَعَهُمْ إِلَى يَدِ مَعْصِيَتِهِمْ.
تیرے بیٹوں نے اُس کا گناہ کیا ہے، اِس لئے اُس نے اُنہیں اُن کے جرم کے قبضے میں چھوڑ دیا۔
فَإِنْ بَكَّرْتَ أَنْتَ إِلَى اللهِ وَتَضَرَّعْتَ إِلَى الْقَدِيرِ،
اب تیرے لئے لازم ہے کہ تُو اللہ کا طالب ہو اور قادرِ مطلق سے التجا کرے،
إِنْ كُنْتَ أَنْتَ زَكِيًّا مُسْتَقِيمًا، فَإِنَّهُ الآنَ يَتَنَبَّهُ لَكَ وَيُسْلِمُ مَسْكَنَ بِرِّكَ.
کہ تُو پاک ہو اور سیدھی راہ پر چلے۔ پھر وہ اب بھی تیری خاطر جوش میں آ کر تیری راست بازی کی سکونت گاہ کو بحال کرے گا۔
وَإِنْ تَكُنْ أُولاَكَ صَغِيرَةً فَآخِرَتُكَ تَكْثُرُ جِدًّا.
تب تیرا مستقبل نہایت عظیم ہو گا، خواہ تیری ابتدائی حالت کتنی پست کیوں نہ ہو۔
«اِسْأَلِ الْقُرُونَ الأُولَى وَتَأَكَّدْ مَبَاحِثَ آبَائِهِمْ،
گزشتہ نسل سے ذرا پوچھ لے، اُس پر دھیان دے جو اُن کے باپ دادا نے تحقیقات کے بعد معلوم کیا۔
لأَنَّنَا نَحْنُ مِنْ أَمْسٍ وَلاَ نَعْلَمُ، لأَنَّ أَيَّامَنَا عَلَى الأَرْضِ ظِلٌّ.
کیونکہ ہم خود کل ہی پیدا ہوئے اور کچھ نہیں جانتے، زمین پر ہمارے دن سائے جیسے عارضی ہیں۔
فَهَلاَّ يُعْلِمُونَكَ؟ يَقُولُونَ لَكَ، وَمِنْ قُلُوبِهِمْ يُخْرِجُونَ أَقْوَالاً قَائِلِينَ:
لیکن یہ تجھے تعلیم دے کر بات بتا سکتے ہیں، یہ تجھے اپنے دل میں جمع شدہ علم پیش کر سکتے ہیں۔
هَلْ يَنْمُي الْبَرْدِيُّ فِي غَيْرِ الْغَمِقَةِ، أَوْ تَنْبُتُ الْحَلْفَاءُ بِلاَ مَاءٍ؟
کیا آبی نرسل وہاں اُگتا ہے جہاں دلدل نہیں؟ کیا سرکنڈا وہاں پھلتا پھولتا ہے جہاں پانی نہیں؟
وَهُوَ بَعْدُ فِي نَضَارَتِهِ لَمْ يُقْطَعْ، يَيْبَسُ قَبْلَ كُلِّ الْعُشْبِ.
اُس کی کونپلیں ابھی نکل رہی ہیں اور اُسے توڑا نہیں گیا کہ اگر پانی نہ ملے تو باقی ہریالی سے پہلے ہی سوکھ جاتا ہے۔
هكَذَا سُبُلُ كُلِّ النَّاسِينَ اللهَ، وَرَجَاءُ الْفَاجِرِ يَخِيبُ،
یہ ہے اُن کا انجام جو اللہ کو بھول جاتے ہیں، اِسی طرح بےدین کی اُمید جاتی رہتی ہے۔
فَيَنْقَطِعُ اعْتِمَادُهُ، وَمُتَّكَلُهُ بَيْتُ الْعَنْكَبُوتِ!
جس پر وہ اعتماد کرتا ہے وہ نہایت ہی نازک ہے، جس پر اُس کا بھروسا ہے وہ مکڑی کے جالے جیسا کمزور ہے۔
يَسْتَنِدُ إِلَى بَيْتِهِ فَلاَ يَثْبُتُ. يَتَمَسَّكُ بِهِ فَلاَ يَقُومُ.
جب وہ جالے پر ٹیک لگائے تو کھڑا نہیں رہتا، جب اُسے پکڑ لے تو قائم نہیں رہتا۔
هُوَ رَطْبٌ تُجَاهَ الشَّمْسِ وَعَلَى جَنَّتِهِ تَنْبُتُ خَرَاعِيبُبهُ.
بےدین دھوپ میں شاداب بیل کی مانند ہے۔ اُس کی کونپلیں چاروں طرف پھیل جاتی،
وَأُصُولُهُ مُشْتَبِكَةٌ فِي الرُّجْمَةِ، فَتَرَى مَحَلَّ الْحِجَارَةِ.
اُس کی جڑیں پتھر کے ڈھیر پر چھا کر اُن میں ٹک جاتی ہیں۔
إِنِ اقْتَلَعَهُ مِنْ مَكَانِهِ، يَجْحَدُهُ قَائِلاً: مَا رَأَيْتُكَ!
لیکن اگر اُسے اُکھاڑا جائے تو جس جگہ پہلے اُگ رہی تھی وہ اُس کا انکار کر کے کہے گی، ’مَیں نے تجھے کبھی دیکھا بھی نہیں۔‘
هذَا هُوَ فَرَحُ طَرِيقِهِ، وَمِنَ التُّرَابِ يَنْبُتُ آخَرُ.
یہ ہے اُس کی راہ کی نام نہاد خوشی! جہاں پہلے تھا وہاں دیگر پودے زمین سے پھوٹ نکلیں گے۔
«هُوَذَا اللهُ لاَ يَرْفُضُ الْكَامِلَ، وَلاَ يَأْخُذُ بِيَدِ فَاعِلِي الشَّرِّ.
یقیناً اللہ بےالزام آدمی کو مسترد نہیں کرتا، یقیناً وہ شریر آدمی کے ہاتھ مضبوط نہیں کرتا۔
عِنْدَمَا يَمْلأُ فَاكَ ضِحْكًا، وَشَفَتَيْكَ هُتَافًا،
وہ ایک بار پھر تجھے ایسی خوشی بخشے گا کہ تُو ہنس اُٹھے گا اور شادمانی کے نعرے لگائے گا۔
يَلْبِسُ مُبْغِضُوكَ خَزْيًا، أَمَّا خَيْمَةُ الأَشْرَارِ فَلاَ تَكُونُ».
جو تجھ سے نفرت کرتے ہیں وہ شرم سے ملبّس ہو جائیں گے، اور بےدینوں کے خیمے نیست و نابود ہوں گے۔“