Luke 11

ایک دن عیسیٰ کہیں دعا کر رہا تھا۔ جب وہ فارغ ہوا تو اُس کے کسی شاگرد نے کہا، ”خداوند، ہمیں دعا کرنا سکھائیں، جس طرح یحییٰ نے بھی اپنے شاگردوں کو دعا کرنے کی تعلیم دی۔“
And it came to pass, that, as he was praying in a certain place, when he ceased, one of his disciples said unto him, Lord, teach us to pray, as John also taught his disciples.
عیسیٰ نے کہا، ”دعا کرتے وقت یوں کہنا، اے باپ، تیرا نام مُقدّس مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔
And he said unto them, When ye pray, say, Our Father which art in heaven, Hallowed be thy name. Thy kingdom come. Thy will be done, as in heaven, so in earth.
ہر روز ہمیں ہماری روز کی روٹی دے۔
Give us day by day our daily bread.
ہمارے گناہوں کو معاف کر۔ کیونکہ ہم بھی ہر ایک کو معاف کرتے ہیں جو ہمارا گناہ کرتا ہے۔ اور ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دے۔“
And forgive us our sins; for we also forgive every one that is indebted to us. And lead us not into temptation; but deliver us from evil.
پھر اُس نے اُن سے کہا، ”اگر تم میں سے کوئی آدھی رات کے وقت اپنے دوست کے گھر جا کر کہے، ’بھائی، مجھے تین روٹیاں دے، بعد میں مَیں یہ واپس کر دوں گا۔
And he said unto them, Which of you shall have a friend, and shall go unto him at midnight, and say unto him, Friend, lend me three loaves;
کیونکہ میرا دوست سفر کر کے میرے پاس آیا ہے اور مَیں اُسے کھانے کے لئے کچھ نہیں دے سکتا۔‘
For a friend of mine in his journey is come to me, and I have nothing to set before him?
اب فرض کرو کہ یہ دوست اندر سے جواب دے، ’مہربانی کر کے مجھے تنگ نہ کر۔ دروازے پر تالا لگا ہے اور میرے بچے میرے ساتھ بستر پر ہیں، اِس لئے مَیں تجھے دینے کے لئے اُٹھ نہیں سکتا۔‘
And he from within shall answer and say, Trouble me not: the door is now shut, and my children are with me in bed; I cannot rise and give thee.
لیکن مَیں تم کو یہ بتاتا ہوں کہ اگر وہ دوستی کی خاطر نہ بھی اُٹھے، توبھی وہ اپنے دوست کے بےجا اصرار کی وجہ سے اُس کی تمام ضرورت پوری کرے گا۔
I say unto you, Though he will not rise and give him, because he is his friend, yet because of his importunity he will rise and give him as many as he needeth.
چنانچہ مانگتے رہو تو تم کو دیا جائے گا، ڈھونڈتے رہو تو تم کو مل جائے گا۔ کھٹکھٹاتے رہو تو تمہارے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا۔
And I say unto you, Ask, and it shall be given you; seek, and ye shall find; knock, and it shall be opened unto you.
کیونکہ جو بھی مانگتا ہے وہ پاتا ہے، جو ڈھونڈتا ہے اُسے ملتا ہے اور جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے لئے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔
For every one that asketh receiveth; and he that seeketh findeth; and to him that knocketh it shall be opened.
تم باپوں میں سے کون اپنے بیٹے کو سانپ دے گا اگر وہ مچھلی مانگے؟
If a son shall ask bread of any of you that is a father, will he give him a stone? or if he ask a fish, will he for a fish give him a serpent?
یا کون اُسے بچھو دے گا اگر وہ انڈا مانگے؟ کوئی نہیں!
Or if he shall ask an egg, will he offer him a scorpion?
جب تم بُرے ہونے کے باوجود اِتنے سمجھ دار ہو کہ اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دے سکتے ہو تو پھر کتنی زیادہ یقینی بات ہے کہ آسمانی باپ اپنے مانگنے والوں کو روح القدس دے گا۔“
If ye then, being evil, know how to give good gifts unto your children: how much more shall your heavenly Father give the Holy Spirit to them that ask him?
ایک دن عیسیٰ نے ایک ایسی بدروح نکال دی جو گونگی تھی۔ جب وہ گونگے آدمی میں سے نکلی تو وہ بولنے لگا۔ وہاں پر جمع لوگ ہکا بکا رہ گئے۔
And he was casting out a devil, and it was dumb. And it came to pass, when the devil was gone out, the dumb spake; and the people wondered.
لیکن بعض نے کہا، ”یہ تو بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔“
But some of them said, He casteth out devils through Beelzebub the chief of the devils.
اَوروں نے اُسے آزمانے کے لئے کسی الٰہی نشان کا مطالبہ کیا۔
And others, tempting him, sought of him a sign from heaven.
لیکن عیسیٰ نے اُن کے خیالات جان کر کہا، ”جس بادشاہی میں بھی پھوٹ پڑ جائے وہ تباہ ہو جائے گی، اور جس گھرانے کی ایسی حالت ہو وہ بھی خاک میں مل جائے گا۔
But he, knowing their thoughts, said unto them, Every kingdom divided against itself is brought to desolation; and a house divided against a house falleth.
تم کہتے ہو کہ مَیں بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں۔ لیکن اگر ابلیس میں پھوٹ پڑ گئی ہے تو پھر اُس کی بادشاہی کس طرح قائم رہ سکتی ہے؟
If Satan also be divided against himself, how shall his kingdom stand? because ye say that I cast out devils through Beelzebub.
دوسرا سوال یہ ہے، اگر مَیں بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے اُنہیں کس کے ذریعے نکالتے ہیں؟ چنانچہ وہی اِس بات میں تمہارے منصف ہوں گے۔
And if I by Beelzebub cast out devils, by whom do your sons cast them out? therefore shall they be your judges.
لیکن اگر مَیں اللہ کی قدرت سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو پھر اللہ کی بادشاہی تمہارے پاس پہنچ چکی ہے۔
But if I with the finger of God cast out devils, no doubt the kingdom of God is come upon you.
جب تک کوئی زورآور آدمی ہتھیاروں سے لیس اپنے ڈیرے کی پہرہ داری کرے اُس وقت تک اُس کی ملکیت محفوظ رہتی ہے۔
When a strong man armed keepeth his palace, his goods are in peace:
لیکن اگر کوئی زیادہ طاقت ور شخص حملہ کر کے اُس پر غالب آئے تو وہ اُس کے اسلحہ پر قبضہ کرے گا جس پر اُس کا بھروسا تھا، اور لُوٹا ہوا مال اپنے لوگوں میں تقسیم کر دے گا۔
But when a stronger than he shall come upon him, and overcome him, he taketh from him all his armour wherein he trusted, and divideth his spoils.
جو میرے ساتھ نہیں وہ میرے خلاف ہے اور جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا وہ بکھیرتا ہے۔
He that is not with me is against me: and he that gathereth not with me scattereth.
جب کوئی بدروح کسی شخص میں سے نکلتی ہے تو وہ ویران علاقوں میں سے گزرتی ہوئی آرام کی جگہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن جب اُسے کوئی ایسا مقام نہیں ملتا تو وہ کہتی ہے، ’مَیں اپنے اُس گھر میں واپس چلی جاؤں گی جس میں سے نکلی تھی۔‘
When the unclean spirit is gone out of a man, he walketh through dry places, seeking rest; and finding none, he saith, I will return unto my house whence I came out.
وہ واپس آ کر دیکھتی ہے کہ کسی نے جھاڑو دے کر سب کچھ سلیقے سے رکھ دیا ہے۔
And when he cometh, he findeth it swept and garnished.
پھر وہ جا کر سات اَور بدروحیں ڈھونڈ لاتی ہے جو اُس سے بدتر ہوتی ہیں، اور وہ سب اُس شخص میں گھس کر رہنے لگتی ہیں۔ چنانچہ اب اُس آدمی کی حالت پہلے کی نسبت زیادہ بُری ہو جاتی ہے۔“
Then goeth he, and taketh to him seven other spirits more wicked than himself; and they enter in, and dwell there: and the last state of that man is worse than the first.
عیسیٰ ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ ایک عورت نے اونچی آواز سے کہا، ”آپ کی ماں مبارک ہے جس نے آپ کو جنم دیا اور آپ کو دودھ پلایا۔“
And it came to pass, as he spake these things, a certain woman of the company lifted up her voice, and said unto him, Blessed is the womb that bare thee, and the paps which thou hast sucked.
لیکن عیسیٰ نے جواب دیا، ”بات یہ نہیں ہے۔ حقیقت میں وہ مبارک ہیں جو اللہ کا کلام سن کر اُس پر عمل کرتے ہیں۔“
But he said, Yea rather, blessed are they that hear the word of God, and keep it.
سننے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تو وہ کہنے لگا، ”یہ نسل شریر ہے، کیونکہ یہ مجھ سے الٰہی نشان کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن اِسے کوئی بھی الٰہی نشان پیش نہیں کیا جائے گا سوائے یونس کے نشان کے۔
And when the people were gathered thick together, he began to say, This is an evil generation: they seek a sign; and there shall no sign be given it, but the sign of Jonas the prophet.
کیونکہ جس طرح یونس نینوہ شہر کے باشندوں کے لئے نشان تھا بالکل اُسی طرح ابنِ آدم اِس نسل کے لئے نشان ہو گا۔
For as Jonas was a sign unto the Ninevites, so shall also the Son of man be to this generation.
قیامت کے دن جنوبی ملک سبا کی ملکہ اِس نسل کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہو کر اُنہیں مجرم قرار دے گی۔ کیونکہ وہ دُوردراز ملک سے سلیمان کی حکمت سننے کے لئے آئی تھی جبکہ یہاں وہ ہے جو سلیمان سے بھی بڑا ہے۔
The queen of the south shall rise up in the judgment with the men of this generation, and condemn them: for she came from the utmost parts of the earth to hear the wisdom of Solomon; and, behold, a greater than Solomon is here.
اُس دن نینوہ کے باشندے بھی اِس نسل کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اُنہیں مجرم ٹھہرائیں گے۔ کیونکہ یونس کے اعلان پر اُنہوں نے توبہ کی تھی جبکہ یہاں وہ ہے جو یونس سے بھی بڑا ہے۔
The men of Nineve shall rise up in the judgment with this generation, and shall condemn it: for they repented at the preaching of Jonas; and, behold, a greater than Jonas is here.
جب کوئی شخص چراغ جلاتا ہے تو نہ وہ اُسے چھپاتا، نہ برتن کے نیچے رکھتا بلکہ اُسے شمع دان پر رکھ دیتا ہے تاکہ اُس کی روشنی اندر آنے والوں کو نظر آئے۔
No man, when he hath lighted a candle, putteth it in a secret place, neither under a bushel, but on a candlestick, that they which come in may see the light.
تیری آنکھ تیرے بدن کا چراغ ہے۔ اگر تیری آنکھ ٹھیک ہو تو تیرا پورا جسم روشن ہو گا۔ لیکن اگر آنکھ خراب ہو تو پورا جسم اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا۔
The light of the body is the eye: therefore when thine eye is single, thy whole body also is full of light; but when thine eye is evil, thy body also is full of darkness.
خبردار! ایسا نہ ہو کہ جو روشنی تیرے اندر ہے وہ حقیقت میں تاریکی ہو۔
Take heed therefore that the light which is in thee be not darkness.
چنانچہ اگر تیرا پورا جسم روشن ہو اور کوئی بھی حصہ تاریک نہ ہو تو پھر وہ بالکل روشن ہو گا، ایسا جیسا اُس وقت ہوتا ہے جب چراغ تجھے اپنے چمکنے دمکنے سے روشن کر دیتا ہے۔“
If thy whole body therefore be full of light, having no part dark, the whole shall be full of light, as when the bright shining of a candle doth give thee light.
عیسیٰ ابھی بات کر رہا تھا کہ کسی فریسی نے اُسے کھانے کی دعوت دی۔ چنانچہ وہ اُس کے گھر میں جا کر کھانے کے لئے بیٹھ گیا۔
And as he spake, a certain Pharisee besought him to dine with him: and he went in, and sat down to meat.
میزبان بڑا حیران ہوا، کیونکہ اُس نے دیکھا کہ عیسیٰ ہاتھ دھوئے بغیر کھانے کے لئے بیٹھ گیا ہے۔
And when the Pharisee saw it, he marvelled that he had not first washed before dinner.
لیکن خداوند نے اُس سے کہا، ”دیکھو، تم فریسی باہر سے ہر پیالے اور برتن کی صفائی کرتے ہو، لیکن اندر سے تم لُوٹ مار اور شرارت سے بھرے ہوتے ہو۔
And the Lord said unto him, Now do ye Pharisees make clean the outside of the cup and the platter; but your inward part is full of ravening and wickedness.
نادانو! اللہ نے باہر والے حصے کو خلق کیا، تو کیا اُس نے اندر والے حصے کو نہیں بنایا؟
Ye fools, did not he that made that which is without make that which is within also?
چنانچہ جو کچھ برتن کے اندر ہے اُسے غریبوں کو دے دو۔ پھر تمہارے لئے سب کچھ پاک صاف ہو گا۔
But rather give alms of such things as ye have; and, behold, all things are clean unto you.
فریسیو، تم پر افسوس! کیونکہ ایک طرف تم پودینہ، سداب اور باغ کی ہر قسم کی ترکاری کا دسواں حصہ اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہو، لیکن دوسری طرف تم انصاف اور اللہ کی محبت کو نظرانداز کرتے ہو۔ لازم ہے کہ تم یہ کام بھی کرو اور پہلا بھی نہ چھوڑو۔
But woe unto you, Pharisees! for ye tithe mint and rue and all manner of herbs, and pass over judgment and the love of God: these ought ye to have done, and not to leave the other undone.
فریسیو، تم پر افسوس! کیونکہ تم عبادت خانوں کی عزت کی کرسیوں پر بیٹھنے کے لئے بےچین رہتے اور بازار میں لوگوں کا سلام سننے کے لئے تڑپتے ہو۔
Woe unto you, Pharisees! for ye love the uppermost seats in the synagogues, and greetings in the markets.
ہاں، تم پر افسوس! کیونکہ تم پوشیدہ قبروں کی مانند ہو جن پر سے لوگ نادانستہ طور پر گزرتے ہیں۔“
Woe unto you, scribes and Pharisees, hypocrites! for ye are as graves which appear not, and the men that walk over them are not aware of them.
شریعت کے ایک عالِم نے اعتراض کیا، ”اُستاد، آپ یہ کہہ کر ہماری بھی بےعزتی کرتے ہیں۔“
Then answered one of the lawyers, and said unto him, Master, thus saying thou reproachest us also.
عیسیٰ نے جواب دیا، ”تم شریعت کے عالِموں پر بھی افسوس! کیونکہ تم لوگوں پر بھاری بوجھ ڈال دیتے ہو جو مشکل سے اُٹھایا جا سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ تم خود اِس بوجھ کو اپنی ایک اُنگلی بھی نہیں لگاتے۔
And he said, Woe unto you also, ye lawyers! for ye lade men with burdens grievous to be borne, and ye yourselves touch not the burdens with one of your fingers.
تم پر افسوس! کیونکہ تم نبیوں کے مزار بنا دیتے ہو، اُن کے جنہیں تمہارے باپ دادا نے مار ڈالا۔
Woe unto you! for ye build the sepulchres of the prophets, and your fathers killed them.
اِس سے تم گواہی دیتے ہو کہ تم وہ کچھ پسند کرتے ہو جو تمہارے باپ دادا نے کیا۔ اُنہوں نے نبیوں کو قتل کیا جبکہ تم اُن کے مزار تعمیر کرتے ہو۔
Truly ye bear witness that ye allow the deeds of your fathers: for they indeed killed them, and ye build their sepulchres.
اِس لئے اللہ کی حکمت نے کہا، ’مَیں اُن میں نبی اور رسول بھیج دوں گی۔ اُن میں سے بعض کو وہ قتل کریں گے اور بعض کو ستائیں گے۔‘
Therefore also said the wisdom of God, I will send them prophets and apostles, and some of them they shall slay and persecute:
نتیجے میں یہ نسل تمام نبیوں کے قتل کی ذمہ دار ٹھہرے گی — دنیا کی تخلیق سے لے کر آج تک،
That the blood of all the prophets, which was shed from the foundation of the world, may be required of this generation;
یعنی ہابیل کے قتل سے لے کر زکریاہ کے قتل تک، جسے بیت المُقدّس کے صحن میں موجود قربان گاہ اور بیت المُقدّس کے دروازے کے درمیان قتل کیا گیا۔ ہاں، مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ یہ نسل ضرور اُن کی ذمہ دار ٹھہرے گی۔
From the blood of Abel unto the blood of Zacharias, which perished between the altar and the temple: verily I say unto you, It shall be required of this generation.
شریعت کے عالِمو، تم پر افسوس! کیونکہ تم نے علم کی کنجی کو چھین لیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ تم خود داخل نہیں ہوئے، بلکہ تم نے داخل ہونے والوں کو بھی روک لیا۔“
Woe unto you, lawyers! for ye have taken away the key of knowledge: ye entered not in yourselves, and them that were entering in ye hindered.
جب عیسیٰ وہاں سے نکلا تو عالِم اور فریسی اُس کے سخت مخالف ہو گئے اور بڑے غور سے اُس کی پوچھ گچھ کرنے لگے۔
And as he said these things unto them, the scribes and the Pharisees began to urge him vehemently, and to provoke him to speak of many things:
وہ اِس تاک میں رہے کہ اُسے منہ سے نکلی کسی بات کی وجہ سے پکڑیں۔
Laying wait for him, and seeking to catch something out of his mouth, that they might accuse him.