II Corinthians 6

اللہ کے ہم خدمت ہوتے ہوئے ہم آپ سے منت کرتے ہیں کہ جو فضل آپ کو ملا ہے وہ ضائع نہ جائے۔
کیونکہ اللہ فرماتا ہے، ”قبولیت کے وقت مَیں نے تیری سنی، نجات کے دن تیری مدد کی۔“ سنیں! اب قبولیت کا وقت آ گیا ہے، اب نجات کا دن ہے۔
ہم کسی کے لئے بھی ٹھوکر کا باعث نہیں بنتے تاکہ لوگ ہماری خدمت میں نقص نہ نکال سکیں۔
ہاں، ہمیں سفارش کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ اللہ کے خادم ہوتے ہوئے ہم ہر حالت میں اپنی نیک نامی ظاہر کرتے ہیں: جب ہم صبر سے مصیبتیں، مشکلات اور آفتیں برداشت کرتے ہیں،
جب لوگ ہمیں مارتے اور قید میں ڈالتے ہیں، جب ہم بےقابو ہجوموں کا سامنا کرتے ہیں، جب ہم محنت مشقت کرتے، رات کے وقت جاگتے اور بھوکے رہتے ہیں،
جب ہم اپنی پاکیزگی، علم، صبر اور مہربان سلوک کا اظہار کرتے ہیں، جب ہم روح القدس کے وسیلے سے حقیقی محبت رکھتے،
سچی باتیں کرتے اور اللہ کی قدرت سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ ہم اپنی نیک نامی اِس میں بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ہم دونوں ہاتھوں سے راست بازی کے ہتھیار تھامے رکھتے ہیں۔
ہم اپنی خدمت جاری رکھتے ہیں، چاہے لوگ ہماری عزت کریں چاہے بےعزتی، چاہے وہ ہماری بُری رپورٹ دیں چاہے اچھی۔ اگرچہ ہماری خدمت سچی ہے، لیکن لوگ ہمیں دغاباز قرار دیتے ہیں۔
اگرچہ لوگ ہمیں جانتے ہیں توبھی ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ہم مرتے مرتے زندہ رہتے ہیں اور لوگ ہمیں مار مار کر قتل نہیں کر سکتے۔
ہم غم کھا کھا کر ہر وقت خوش رہتے ہیں، ہم غریب حالت میں بہتوں کو دولت مند بنا دیتے ہیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، توبھی ہمیں سب کچھ حاصل ہے۔
کُرِنتھس کے عزیزو، ہم نے کھل کر آپ سے بات کی ہے، ہمارا دل آپ کے لئے کشادہ ہو گیا ہے۔
جو جگہ ہم نے دل میں آپ کو دی ہے وہ اب تک کم نہیں ہوئی۔ لیکن آپ کے دلوں میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں رہی۔
اب مَیں آپ سے جو میرے بچے ہیں درخواست کرتا ہوں کہ جواب میں ہمیں بھی اپنے دلوں میں جگہ دیں۔
غیرایمان داروں کے ساتھ مل کر ایک جوئے تلے زندگی نہ گزاریں، کیونکہ راستی کا ناراستی سے کیا واسطہ ہے؟ یا روشنی تاریکی کے ساتھ کیا تعلق رکھ سکتی ہے؟
مسیح اور ابلیس کے درمیان کیا مطابقت ہو سکتی ہے؟ ایمان دار کا غیرایمان دار کے ساتھ کیا واسطہ ہے؟
اللہ کے مقدِس اور بُتوں میں کیا اتفاق ہو سکتا ہے؟ ہم تو زندہ خدا کا گھر ہیں۔ اللہ نے یوں فرمایا ہے، ”مَیں اُن کے درمیان سکونت کروں گا اور اُن میں پھروں گا۔ مَیں اُن کا خدا ہوں گا، اور وہ میری قوم ہوں گے۔“
چنانچہ رب فرماتا ہے، ”اِس لئے اُن میں سے نکل آؤ اور اُن سے الگ ہو جاؤ۔ کسی ناپاک چیز کو نہ چھونا، تو پھر مَیں تمہیں قبول کروں گا۔
مَیں تمہارا باپ ہوں گا اور تم میرے بیٹے بیٹیاں ہو گے، رب قادرِ مطلق فرماتا ہے۔“