Matthew 17

And after six days Jesus taketh Peter, James, and John his brother, and bringeth them up into an high mountain apart,
چھ دن کے بعد عیسیٰ صرف پطرس، یعقوب اور یوحنا کو اپنے ساتھ لے کر اونچے پہاڑ پر چڑھ گیا۔
And was transfigured before them: and his face did shine as the sun, and his raiment was white as the light.
وہاں اُس کی شکل و صورت اُن کے سامنے بدل گئی۔ اُس کا چہرہ سورج کی طرح چمکنے لگا، اور اُس کے کپڑے نور کی مانند سفید ہو گئے۔
And, behold, there appeared unto them Moses and Elias talking with him.
اچانک الیاس اور موسیٰ ظاہر ہوئے اور عیسیٰ سے باتیں کرنے لگے۔
Then answered Peter, and said unto Jesus, Lord, it is good for us to be here: if thou wilt, let us make here three tabernacles; one for thee, and one for Moses, and one for Elias.
پطرس بول اُٹھا، ”خداوند، کتنی اچھی بات ہے کہ ہم یہاں ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو مَیں تین جھونپڑیاں بناؤں گا، ایک آپ کے لئے، ایک موسیٰ کے لئے اور ایک الیاس کے لئے۔“
While he yet spake, behold, a bright cloud overshadowed them: and behold a voice out of the cloud, which said, This is my beloved Son, in whom I am well pleased; hear ye him.
وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ ایک چمک دار بادل آ کر اُن پر چھا گیا اور بادل میں سے ایک آواز سنائی دی، ”یہ میرا پیارا فرزند ہے، جس سے مَیں خوش ہوں۔ اِس کی سنو۔“
And when the disciples heard it, they fell on their face, and were sore afraid.
یہ سن کر شاگرد دہشت کھا کر اوندھے منہ گر گئے۔
And Jesus came and touched them, and said, Arise, and be not afraid.
لیکن عیسیٰ نے آ کر اُنہیں چھوا۔ اُس نے کہا، ”اُٹھو، مت ڈرو۔“
And when they had lifted up their eyes, they saw no man, save Jesus only.
جب اُنہوں نے نظر اُٹھائی تو عیسیٰ کے سوا کسی کو نہ دیکھا۔
And as they came down from the mountain, Jesus charged them, saying, Tell the vision to no man, until the Son of man be risen again from the dead.
وہ پہاڑ سے اُترنے لگے تو عیسیٰ نے اُنہیں حکم دیا، ”جو کچھ تم نے دیکھا ہے اُسے اُس وقت تک کسی کو نہ بتانا جب تک کہ ابنِ آدم مُردوں میں سے جی نہ اُٹھے۔“
And his disciples asked him, saying, Why then say the scribes that Elias must first come?
شاگردوں نے اُس سے پوچھا، ”شریعت کے علما کیوں کہتے ہیں کہ مسیح کی آمد سے پہلے الیاس کا آنا ضروری ہے؟“
And Jesus answered and said unto them, Elias truly shall first come, and restore all things.
عیسیٰ نے جواب دیا، ”الیاس تو ضرور سب کچھ بحال کرنے کے لئے آئے گا۔
But I say unto you, That Elias is come already, and they knew him not, but have done unto him whatsoever they listed. Likewise shall also the Son of man suffer of them.
لیکن مَیں تم کو بتاتا ہوں کہ الیاس تو آ چکا ہے اور اُنہوں نے اُسے نہیں پہچانا بلکہ اُس کے ساتھ جو چاہا کیا۔ اِسی طرح ابنِ آدم بھی اُن کے ہاتھوں دُکھ اُٹھائے گا۔“
Then the disciples understood that he spake unto them of John the Baptist.
پھر شاگردوں کو سمجھ آئی کہ وہ اُن کے ساتھ یحییٰ بپتسمہ دینے والے کی بات کر رہا تھا۔
And when they were come to the multitude, there came to him a certain man, kneeling down to him, and saying,
جب وہ نیچے ہجوم کے پاس پہنچے تو ایک آدمی نے عیسیٰ کے سامنے آ کر گھٹنے ٹیکے
Lord, have mercy on my son: for he is lunatick, and sore vexed: for ofttimes he falleth into the fire, and oft into the water.
اور کہا، ”خداوند، میرے بیٹے پر رحم کریں، اُسے مرگی کے دورے پڑتے ہیں اور اُسے شدید تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے۔ کئی بار وہ آگ یا پانی میں گر جاتا ہے۔
And I brought him to thy disciples, and they could not cure him.
مَیں اُسے آپ کے شاگردوں کے پاس لایا تھا، لیکن وہ اُسے شفا نہ دے سکے۔“
Then Jesus answered and said, O faithless and perverse generation, how long shall I be with you? how long shall I suffer you? bring him hither to me.
عیسیٰ نے جواب دیا، ”ایمان سے خالی اور ٹیڑھی نسل! مَیں کب تک تمہارے ساتھ رہوں، کب تک تمہیں برداشت کروں؟ لڑکے کو میرے پاس لے آؤ۔“
And Jesus rebuked the devil; and he departed out of him: and the child was cured from that very hour.
عیسیٰ نے بدروح کو ڈانٹا، تو وہ لڑکے میں سے نکل گئی۔ اُسی لمحے اُسے شفا مل گئی۔
Then came the disciples to Jesus apart, and said, Why could not we cast him out?
بعد میں شاگردوں نے علیٰحدگی میں عیسیٰ کے پاس آ کر پوچھا، ”ہم بدروح کو کیوں نہ نکال سکے؟“
And Jesus said unto them, Because of your unbelief: for verily I say unto you, If ye have faith as a grain of mustard seed, ye shall say unto this mountain, Remove hence to yonder place; and it shall remove; and nothing shall be impossible unto you.
اُس نے جواب دیا، ”اپنے ایمان کی کمی کے سبب سے۔ مَیں تمہیں سچ بتاتا ہوں، اگر تمہارا ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی ہو تو پھر تم اِس پہاڑ کو کہہ سکو گے، ’اِدھر سے اُدھر کھسک جا،‘ تو وہ کھسک جائے گا۔ اور تمہارے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں ہو گا۔
Howbeit this kind goeth not out but by prayer and fasting.
[لیکن اِس قسم کی بدروح دعا اور روزے کے بغیر نہیں نکلتی۔]“
And while they abode in Galilee, Jesus said unto them, The Son of man shall be betrayed into the hands of men:
جب وہ گلیل میں جمع ہوئے تو عیسیٰ نے اُنہیں بتایا، ”ابنِ آدم کو آدمیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔
And they shall kill him, and the third day he shall be raised again. And they were exceeding sorry.
وہ اُسے قتل کریں گے، لیکن تین دن کے بعد وہ جی اُٹھے گا۔“ یہ سن کر شاگرد نہایت غمگین ہوئے۔
And when they were come to Capernaum, they that received tribute money came to Peter, and said, Doth not your master pay tribute?
وہ کفرنحوم پہنچے تو بیت المُقدّس کا ٹیکس جمع کرنے والے پطرس کے پاس آ کر پوچھنے لگے، ”کیا آپ کا اُستاد بیت المُقدّس کا ٹیکس ادا نہیں کرتا؟“
He saith, Yes. And when he was come into the house, Jesus prevented him, saying, What thinkest thou, Simon? of whom do the kings of the earth take custom or tribute? of their own children, or of strangers?
”جی، وہ کرتا ہے،“ پطرس نے جواب دیا۔ وہ گھر میں آیا تو عیسیٰ پہلے ہی بولنے لگا، ”کیا خیال ہے شمعون، دنیا کے بادشاہ کن سے ڈیوٹی اور ٹیکس لیتے ہیں، اپنے فرزندوں سے یا اجنبیوں سے؟“
Peter saith unto him, Of strangers. Jesus saith unto him, Then are the children free.
پطرس نے جواب دیا، ”اجنبیوں سے۔“ عیسیٰ بولا ”تو پھر اُن کے فرزند ٹیکس دینے سے بَری ہوئے۔
Notwithstanding, lest we should offend them, go thou to the sea, and cast an hook, and take up the fish that first cometh up; and when thou hast opened his mouth, thou shalt find a piece of money: that take, and give unto them for me and thee.
لیکن ہم اُنہیں ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ اِس لئے جھیل پر جا کر اُس میں ڈوری ڈال دینا۔ جو مچھلی تُو پہلے پکڑے گا اُس کا منہ کھولنا تو اُس میں سے چاندی کا سِکہ نکلے گا۔ اُسے لے کر اُنہیں میرے اور اپنے لئے ادا کر دے۔“