Genesis 14

کنعان میں جنگ ہوئی۔ بیرونِ ملک کے چار بادشاہوں نے کنعان کے پانچ بادشاہوں سے جنگ کی۔ بیرونِ ملک کے بادشاہ یہ تھے: سِنعار سے امرا فِل، اِلاسر سے اریوک، عیلام سے کدرلاعُمر اور جوئیم سے تِدعال۔
And it came to pass in the days of Amraphel king of Shinar, Arioch king of Ellasar, Chedorlaomer king of Elam, and Tidal king of nations;
کنعان کے بادشاہ یہ تھے: سدوم سے بِرَع، عمورہ سے بِرشَع، ادمہ سے سِنیاب، ضبوئیم سے شِمیبر اور بالع یعنی ضُغرکا بادشاہ۔
That these made war with Bera king of Sodom, and with Birsha king of Gomorrah, Shinab king of Admah, and Shemeber king of Zeboiim, and the king of Bela, which is Zoar.
کنعان کے اِن پانچ بادشاہوں کا اتحاد ہوا تھا اور وہ سِدّ یم میں جمع ہوئے تھے۔ (اب سِدّ یم نہیں ہے، کیونکہ اُس کی جگہ بحیرۂ مُردار آ گیا ہے)۔
All these were joined together in the vale of Siddim, which is the salt sea.
کدرلاعُمر نے بارہ سال تک اُن پر حکومت کی تھی، لیکن تیرھویں سال وہ باغی ہو گئے تھے۔
Twelve years they served Chedorlaomer, and in the thirteenth year they rebelled.
اب ایک سال کے بعد کدرلاعُمر اور اُس کے اتحادی اپنی فوجوں کے ساتھ آئے۔ پہلے اُنہوں نے عستارات قرنَیم میں رفائیوں کو، ہام میں زُوزیوں کو، سَوی قِریَتائم میں ایمیوں کو
And in the fourteenth year came Chedorlaomer, and the kings that were with him, and smote the Rephaims in Ashteroth Karnaim, and the Zuzims in Ham, and the Emims in Shaveh Kiriathaim,
اور حوریوں کو اُن کے پہاڑی علاقے سعیر میں شکست دی۔ یوں وہ ایل فاران تک پہنچ گئے جو ریگستان کے کنارے پر ہے۔
And the Horites in their mount Seir, unto El–paran, which is by the wilderness.
پھر وہ واپس آئے اور عین مِصفات یعنی قادس پہنچے۔ اُنہوں نے عمالیقیوں کے پورے علاقے کو تباہ کر دیا اور حصصون تمر میں آباد اموریوں کو بھی شکست دی۔
And they returned, and came to En–mishpat, which is Kadesh, and smote all the country of the Amalekites, and also the Amorites, that dwelt in Hazezon–tamar.
اُس وقت سدوم، عمورہ، ادمہ، ضبوئیم اور بالع یعنی ضُغر کے بادشاہ اُن سے لڑنے کے لئے سِدّیم کی وادی میں جمع ہوئے۔
And there went out the king of Sodom, and the king of Gomorrah, and the king of Admah, and the king of Zeboiim, and the king of Bela (the same is Zoar;) and they joined battle with them in the vale of Siddim;
اِن پانچ بادشاہوں نے عیلام کے بادشاہ کدرلاعُمر، جوئیم کے بادشاہ تِدعال، سِنعار کے بادشاہ امرافِل اور اِلاسر کے بادشاہ اریوک کا مقابلہ کیا۔
With Chedorlaomer the king of Elam, and with Tidal king of nations, and Amraphel king of Shinar, and Arioch king of Ellasar; four kings with five.
اِس وادی میں تارکول کے متعدد گڑھے تھے۔ جب باغی بادشاہ شکست کھا کر بھاگنے لگے تو سدوم اور عمورہ کے بادشاہ اِن گڑھوں میں گر گئے جبکہ باقی تین بادشاہ بچ کر پہاڑی علاقے میں فرار ہوئے۔
And the vale of Siddim was full of slimepits; and the kings of Sodom and Gomorrah fled, and fell there; and they that remained fled to the mountain.
فتح مند بادشاہ سدوم اور عمورہ کا تمام مال تمام کھانے والی چیزوں سمیت لُوٹ کر واپس چل دیئے۔
And they took all the goods of Sodom and Gomorrah, and all their victuals, and went their way.
ابرام کا بھتیجا لوط سدوم میں رہتا تھا، اِس لئے وہ اُسے بھی اُس کی ملکیت سمیت چھین کر ساتھ لے گئے۔
And they took Lot, Abram's brother's son, who dwelt in Sodom, and his goods, and departed.
لیکن ایک آدمی نے جو بچ نکلا تھا عبرانی مرد ابرام کے پاس آ کر اُسے سب کچھ بتا دیا۔ اُس وقت وہ ممرے کے درختوں کے پاس آباد تھا۔ ممرے اموری تھا۔ وہ اور اُس کے بھائی اِسکال اور عانیر ابرام کے اتحادی تھے۔
And there came one that had escaped, and told Abram the Hebrew; for he dwelt in the plain of Mamre the Amorite, brother of Eshcol, and brother of Aner: and these were confederate with Abram.
جب ابرام کو پتا چلا کہ بھتیجے کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو اُس نے اپنے گھر میں پیدا ہوئے تمام جنگ آزمودہ غلاموں کو جمع کر کے دان تک دشمن کا تعاقب کیا۔ اُس کے ساتھ 318 افراد تھے۔
And when Abram heard that his brother was taken captive, he armed his trained servants, born in his own house, three hundred and eighteen, and pursued them unto Dan.
وہاں اُس نے اپنے بندوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے رات کے وقت دشمن پر حملہ کیا۔ دشمن شکست کھا کر بھاگ گیا اور ابرام نے دمشق کے شمال میں واقع خوبہ تک اُس کا تعاقب کیا۔
And he divided himself against them, he and his servants, by night, and smote them, and pursued them unto Hobah, which is on the left hand of Damascus.
وہ اُن سے لُوٹا ہوا تمام مال واپس لے آیا۔ لوط، اُس کی جائیداد، عورتیں اور باقی قیدی بھی دشمن کے قبضے سے بچ نکلے۔
And he brought back all the goods, and also brought again his brother Lot, and his goods, and the women also, and the people.
جب ابرام کدرلاعُمر اور اُس کے اتحادیوں پر فتح پانے کے بعد واپس پہنچا تو سدوم کا بادشاہ اُس سے ملنے کے لئےوادیِ سَوی میں آیا۔ (اِسے آج کل بادشاہ کی وادی کہا جاتا ہے۔)
And the king of Sodom went out to meet him after his return from the slaughter of Chedorlaomer, and of the kings that were with him, at the valley of Shaveh, which is the king's dale.
سالم کا بادشاہ مَلِک صدق بھی وہاں پہنچا۔ وہ اپنے ساتھ روٹی اور مَے لے آیا۔ مَلِک صدق اللہ تعالیٰ کا امام تھا۔
And Melchizedek king of Salem brought forth bread and wine: and he was the priest of the most high God.
اُس نے ابرام کو برکت دے کر کہا، ”ابرام پر اللہ تعالیٰ کی برکت ہو، جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔
And he blessed him, and said, Blessed be Abram of the most high God, possessor of heaven and earth:
اللہ تعالیٰ مبارک ہو جس نے تیرے دشمنوں کو تیرے ہاتھ میں کر دیا ہے۔“ ابرام نے اُسے تمام مال کا دسواں حصہ دیا۔
And blessed be the most high God, which hath delivered thine enemies into thy hand. And he gave him tithes of all.
سدوم کے بادشاہ نے ابرام سے کہا، ”مجھے میرے لوگ واپس کر دیں اور باقی چیزیں اپنے پاس رکھ لیں۔“
And the king of Sodom said unto Abram, Give me the persons, and take the goods to thyself.
لیکن ابرام نے اُس سے کہا، ”مَیں نے رب سے قَسم کھائی ہے، اللہ تعالیٰ سے جو آسمان و زمین کا خالق ہے
And Abram said to the king of Sodom, I have lift up mine hand unto the LORD, the most high God, the possessor of heaven and earth,
کہ مَیں اُس میں سے کچھ نہیں لوں گا جو آپ کا ہے، چاہے وہ دھاگا یا جوتی کا تسمہ ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کہیں، ’مَیں نے ابرام کو دولت مند بنا دیا ہے۔‘
That I will not take from a thread even to a shoelatchet, and that I will not take any thing that is thine, lest thou shouldest say, I have made Abram rich:
سوائے اُس کھانے کے جو میرے آدمیوں نے راستے میں کھایا ہے مَیں کچھ قبول نہیں کروں گا۔ لیکن میرے اتحادی عانیر، اِسکال اور ممرے ضرور اپنا اپنا حصہ لیں۔“
Save only that which the young men have eaten, and the portion of the men which went with me, Aner, Eshcol, and Mamre; let them take their portion.