Hebrews 6

اِس لئے آئیں، ہم مسیح کے بارے میں بنیادی تعلیم کو چھوڑ کر بلوغت کی طرف آگے بڑھیں۔ کیونکہ ایسی باتیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے جن سے ایمان کی بنیاد رکھی جاتی ہے، مثلاً موت تک پہنچانے والے کام سے توبہ،
Therefore leaving the principles of the doctrine of Christ, let us go on unto perfection; not laying again the foundation of repentance from dead works, and of faith toward God,
بپتسمہ کیا ہے، کسی پر ہاتھ رکھنے کی تعلیم، مُردوں کے جی اُٹھنے اور ابدی سزا پانے کی تعلیم۔
Of the doctrine of baptisms, and of laying on of hands, and of resurrection of the dead, and of eternal judgment.
چنانچہ اللہ کی مرضی ہوئی تو ہم یہ چھوڑ کر آگے بڑھیں گے۔
And this will we do, if God permit.
ناممکن ہے کہ اُنہیں بحال کر کے دوبارہ توبہ تک پہنچایا جائے جنہوں نے اپنا ایمان ترک کر دیا ہو۔ اُنہیں تو ایک بار اللہ کے نور میں لایا گیا تھا، اُنہوں نے آسمان کی نعمت چکھ لی تھی، وہ روح القدس میں شریک ہوئے،
For it is impossible for those who were once enlightened, and have tasted of the heavenly gift, and were made partakers of the Holy Ghost,
اُنہوں نے اللہ کے کلام کی بھلائی اور آنے والے زمانے کی قوتوں کا تجربہ کیا تھا۔
And have tasted the good word of God, and the powers of the world to come,
اور پھر اُنہوں نے اپنا ایمان ترک کر دیا! ایسے لوگوں کو بحال کر کے دوبارہ توبہ تک پہنچانا ناممکن ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے وہ اللہ کے فرزند کو دوبارہ مصلوب کر کے اُسے لعن طعن کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔
If they shall fall away, to renew them again unto repentance; seeing they crucify to themselves the Son of God afresh, and put him to an open shame.
اللہ اُس زمین کو برکت دیتا ہے جو اپنے پر بار بار پڑنے والی بارش کو جذب کر کے ایسی فصل پیدا کرتی ہے جو کھیتی باڑی کرنے والے کے لئے مفید ہو۔
For the earth which drinketh in the rain that cometh oft upon it, and bringeth forth herbs meet for them by whom it is dressed, receiveth blessing from God:
لیکن اگر وہ صرف خاردار پودے اور اونٹ کٹارے پیدا کرے تو وہ بےکار ہے اور اِس خطرے میں ہے کہ اُس پر لعنت بھیجی جائے۔ انجامِ کار اُس پر کا سب کچھ جلایا جائے گا۔
But that which beareth thorns and briers is rejected, and is nigh unto cursing; whose end is to be burned.
عزیزو، گو ہم اِس طرح کی باتیں کر رہے ہیں توبھی ہمارا اعتماد یہ ہے کہ آپ کو وہ بہترین برکتیں حاصل ہیں جو نجات سے ملتی ہیں۔
But, beloved, we are persuaded better things of you, and things that accompany salvation, though we thus speak.
کیونکہ اللہ بےانصاف نہیں ہے۔ وہ آپ کا کام اور وہ محبت نہیں بھولے گا جو آپ نے اُس کا نام لے کر ظاہر کی جب آپ نے مُقدّسین کی خدمت کی بلکہ آج تک کر رہے ہیں۔
For God is not unrighteous to forget your work and labour of love, which ye have shewed toward his name, in that ye have ministered to the saints, and do minister.
لیکن ہماری بڑی خواہش یہ ہے کہ آپ میں سے ہر ایک اِسی سرگرمی کا اظہار آخر تک کرتا رہے تاکہ جن باتوں کی اُمید آپ رکھتے ہیں وہ واقعی پوری ہو جائیں۔
And we desire that every one of you do shew the same diligence to the full assurance of hope unto the end:
ہم نہیں چاہتے کہ آپ سُست ہو جائیں بلکہ یہ کہ آپ اُن کے نمونے پر چلیں جو ایمان اور صبر سے وہ کچھ میراث میں پا رہے ہیں جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے۔
That ye be not slothful, but followers of them who through faith and patience inherit the promises.
جب اللہ نے قَسم کھا کر ابراہیم سے وعدہ کیا تو اُس نے اپنی ہی قَسم کھا کر یہ وعدہ کیا۔ کیونکہ کوئی اَور نہیں تھا جو اُس سے بڑا تھا جس کی قَسم وہ کھا سکتا۔
For when God made promise to Abraham, because he could swear by no greater, he sware by himself,
اُس وقت اُس نے کہا، ”مَیں ضرور تجھے بہت برکت دوں گا، اور مَیں یقیناً تجھے کثرت کی اولاد دوں گا۔“
Saying, Surely blessing I will bless thee, and multiplying I will multiply thee.
اِس پر ابراہیم نے صبر سے انتظار کر کے وہ کچھ پایا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
And so, after he had patiently endured, he obtained the promise.
قَسم کھاتے وقت لوگ اُس کی قَسم کھاتے ہیں جو اُن سے بڑا ہوتا ہے۔ اِس طرح سے قَسم میں بیان کردہ بات کی تصدیق بحث مباحثہ کی ہر گنجائش کو ختم کر دیتی ہے۔
For men verily swear by the greater: and an oath for confirmation is to them an end of all strife.
اللہ نے بھی قَسم کھا کر اپنے وعدے کی تصدیق کی۔ کیونکہ وہ اپنے وعدے کے وارثوں پر صاف ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ اُس کا ارادہ کبھی نہیں بدلے گا۔
Wherein God, willing more abundantly to shew unto the heirs of promise the immutability of his counsel, confirmed it by an oath:
غرض، یہ دو باتیں قائم رہی ہیں، اللہ کا وعدہ اور اُس کی قَسم۔ وہ اِنہیں نہ تو بدل سکتا نہ اِن کے بارے میں جھوٹ بول سکتا ہے۔ یوں ہم جنہوں نے اُس کے پاس پناہ لی ہے بڑی تسلی پا کر اُس اُمید کو مضبوطی سے تھامے رکھ سکتے ہیں جو ہمیں پیش کی گئی ہے۔
That by two immutable things, in which it was impossible for God to lie, we might have a strong consolation, who have fled for refuge to lay hold upon the hope set before us:
کیونکہ یہ اُمید ہماری جان کے لئے مضبوط لنگر ہے۔ اور یہ آسمانی بیت المُقدّس کے مُقدّس ترین کمرے کے پردے میں سے گزر کر اُس میں داخل ہوتی ہے۔
Which hope we have as an anchor of the soul, both sure and stedfast, and which entereth into that within the veil;
وہیں عیسیٰ ہمارے آگے آگے جا کر ہماری خاطر داخل ہوا ہے۔ یوں وہ مَلِک صدق کی مانند ہمیشہ کے لئے امامِ اعظم بن گیا ہے۔
Whither the forerunner is for us entered, even Jesus, made an high priest for ever after the order of Melchisedec.