Genesis 38

اُن دنوں میں یہوداہ اپنے بھائیوں کو چھوڑ کر ایک آدمی کے پاس رہنے لگا جس کا نام حیرہ تھا اور جو عدُلام شہر سے تھا۔
And it came to pass at that time, that Judah went down from his brethren, and turned in to a certain Adullamite, whose name was Hirah.
وہاں یہوداہ کی ملاقات ایک کنعانی عورت سے ہوئی جس کے باپ کا نام سوع تھا۔ اُس نے اُس سے شادی کی۔
And Judah saw there a daughter of a certain Canaanite, whose name was Shuah; and he took her, and went in unto her.
بیٹا پیدا ہوا جس کا نام یہوداہ نے عیر رکھا۔
And she conceived, and bare a son; and he called his name Er.
ایک اَور بیٹا پیدا ہوا جس کا نام بیوی نے اونان رکھا۔
And she conceived again, and bare a son; and she called his name Onan.
اُس کے تیسرا بیٹا بھی پیدا ہوا۔ اُس نے اُس کا نام سیلہ رکھا۔ یہوداہ کزیب میں تھا جب وہ پیدا ہوا۔
And she yet again conceived, and bare a son; and called his name Shelah: and he was at Chezib, when she bare him.
یہوداہ نے اپنے بڑے بیٹے عیر کی شادی ایک لڑکی سے کرائی جس کا نام تمر تھا۔
And Judah took a wife for Er his firstborn, whose name was Tamar.
رب کے نزدیک عیر شریر تھا، اِس لئے اُس نے اُسے ہلاک کر دیا۔
And Er, Judah's firstborn, was wicked in the sight of the LORD; and the LORD slew him.
اِس پر یہوداہ نے عیر کے چھوٹے بھائی اونان سے کہا، ”اپنے بڑے بھائی کی بیوہ کے پاس جاؤ اور اُس سے شادی کرو تاکہ تمہارے بھائی کی نسل قائم رہے۔“
And Judah said unto Onan, Go in unto thy brother's wife, and marry her, and raise up seed to thy brother.
اونان نے ایسا کیا، لیکن وہ جانتا تھا کہ جو بھی بچے پیدا ہوں گے وہ قانون کے مطابق میرے بڑے بھائی کے ہوں گے۔ اِس لئے جب بھی وہ تمر سے ہم بستر ہوتا تو نطفہ کو زمین پر گرا دیتا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ میری معرفت میرے بھائی کے بچے پیدا ہوں۔
And Onan knew that the seed should not be his; and it came to pass, when he went in unto his brother's wife, that he spilled it on the ground, lest that he should give seed to his brother.
یہ بات رب کو بُری لگی، اور اُس نے اُسے بھی سزائے موت دی۔
And the thing which he did displeased the LORD: wherefore he slew him also.
تب یہوداہ نے اپنی بہو تمر سے کہا، ”اپنے باپ کے گھر واپس چلی جاؤ اور اُس وقت تک بیوہ رہو جب تک میرا بیٹا سیلہ بڑا نہ ہو جائے۔“ اُس نے یہ اِس لئے کہا کہ اُسے ڈر تھا کہ کہیں سیلہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح مر نہ جائے۔ چنانچہ تمر اپنے میکے چلی گئی۔
Then said Judah to Tamar his daughter in law, Remain a widow at thy father's house, till Shelah my son be grown: for he said, Lest peradventure he die also, as his brethren did. And Tamar went and dwelt in her father's house.
کافی دنوں کے بعد یہوداہ کی بیوی جو سوع کی بیٹی تھی مر گئی۔ ماتم کا وقت گزر گیا تو یہوداہ اپنے عدُلامی دوست حیرہ کے ساتھ تِمنت گیا جہاں یہوداہ کی بھیڑوں کی پشم کتری جا رہی تھی۔
And in process of time the daughter of Shuah Judah's wife died; and Judah was comforted, and went up unto his sheepshearers to Timnath, he and his friend Hirah the Adullamite.
تمر کو بتایا گیا، ”آپ کا سُسر اپنی بھیڑوں کی پشم کترنے کے لئے تِمنت جا رہا ہے۔“
And it was told Tamar, saying, Behold thy father in law goeth up to Timnath to shear his sheep.
یہ سن کر تمر نے بیوہ کے کپڑے اُتار کر عام کپڑے پہن لئے۔ پھر وہ اپنا منہ چادر سے لپیٹ کر عینیم شہر کے دروازے پر بیٹھ گئی جو تِمنت کے راستے میں تھا۔ تمر نے یہ حرکت اِس لئے کی کہ یہوداہ کا بیٹا سیلہ اب بالغ ہو چکا تھا توبھی اُس کی اُس کے ساتھ شادی نہیں کی گئی تھی۔
And she put her widow's garments off from her, and covered her with a vail, and wrapped herself, and sat in an open place, which is by the way to Timnath; for she saw that Shelah was grown, and she was not given unto him to wife.
جب یہوداہ وہاں سے گزرا تو اُس نے اُسے دیکھ کر سوچا کہ یہ کسبی ہے، کیونکہ اُس نے اپنا منہ چھپایا ہوا تھا۔
When Judah saw her, he thought her to be an harlot; because she had covered her face.
وہ راستے سے ہٹ کر اُس کے پاس گیا اور کہا، ”ذرا مجھے اپنے ہاں آنے دیں۔“ (اُس نے نہیں پہچانا کہ یہ میری بہو ہے)۔ تمر نے کہا، ”آپ مجھے کیا دیں گے؟“
And he turned unto her by the way, and said, Go to, I pray thee, let me come in unto thee; (for he knew not that she was his daughter in law.) And she said, What wilt thou give me, that thou mayest come in unto me?
اُس نے جواب دیا، ”مَیں آپ کو بکری کا بچہ بھیج دوں گا۔“ تمر نے کہا، ”ٹھیک ہے، لیکن اُسے بھیجنے تک مجھے ضمانت دیں۔“
And he said, I will send thee a kid from the flock. And she said, Wilt thou give me a pledge, till thou send it?
اُس نے پوچھا، ”مَیں آپ کو کیا دوں؟“ تمر نے کہا، ”اپنی مُہر اور اُسے گلے میں لٹکانے کی ڈوری۔ وہ لاٹھی بھی دیں جو آپ پکڑے ہوئے ہیں۔“ چنانچہ یہوداہ اُسے یہ چیزیں دے کر اُس کے ساتھ ہم بستر ہوا۔ نتیجے میں تمر اُمید سے ہوئی۔
And he said, What pledge shall I give thee? And she said, Thy signet, and thy bracelets, and thy staff that is in thine hand. And he gave it her, and came in unto her, and she conceived by him.
پھر تمر اُٹھ کر اپنے گھر واپس چلی گئی۔ اُس نے اپنی چادر اُتار کر دوبارہ بیوہ کے کپڑے پہن لئے۔
And she arose, and went away, and laid by her vail from her, and put on the garments of her widowhood.
یہوداہ نے اپنے دوست حیرہ عدُلامی کے ہاتھ بکری کا بچہ بھیج دیا تاکہ وہ چیزیں واپس مل جائیں جو اُس نے ضمانت کے طور پر دی تھیں۔ لیکن حیرہ کو پتا نہ چلا کہ عورت کہاں ہے۔
And Judah sent the kid by the hand of his friend the Adullamite, to receive his pledge from the woman's hand: but he found her not.
اُس نے عینیم کے باشندوں سے پوچھا، ”وہ کسبی کہاں ہے جو یہاں سڑک پر بیٹھی تھی؟“ اُنہوں نے جواب دیا، ”یہاں ایسی کوئی کسبی نہیں تھی۔“
Then he asked the men of that place, saying, Where is the harlot, that was openly by the way side? And they said, There was no harlot in this place.
اُس نے یہوداہ کے پاس واپس جا کر کہا، ”وہ مجھے نہیں ملی بلکہ وہاں کے رہنے والوں نے کہا کہ یہاں کوئی ایسی کسبی تھی نہیں۔“
And he returned to Judah, and said, I cannot find her; and also the men of the place said, that there was no harlot in this place.
یہوداہ نے کہا، ”پھر وہ ضمانت کی چیزیں اپنے پاس ہی رکھے۔ اُسے چھوڑ دو ورنہ لوگ ہمارا مذاق اُڑائیں گے۔ ہم نے تو پوری کوشش کی کہ اُسے بکری کا بچہ مل جائے، لیکن آپ کو کھوج لگانے کے باوجود پتا نہ چلا کہ وہ کہاں ہے۔“
And Judah said, Let her take it to her, lest we be shamed: behold, I sent this kid, and thou hast not found her.
تین ماہ کے بعد یہوداہ کو اطلاع دی گئی، ”آپ کی بہو تمر نے زنا کیا ہے، اور اب وہ حاملہ ہے۔“ یہوداہ نے حکم دیا، ”اُسے باہر لا کر جلا دو۔“
And it came to pass about three months after, that it was told Judah, saying, Tamar thy daughter in law hath played the harlot; and also, behold, she is with child by whoredom. And Judah said, Bring her forth, and let her be burnt.
تمر کو جلانے کے لئے باہر لایا گیا تو اُس نے اپنے سُسر کو خبر بھیج دی، ”یہ چیزیں دیکھیں۔ یہ اُس آدمی کی ہیں جس کی معرفت مَیں اُمید سے ہوں۔ پتا کریں کہ یہ مُہر، اُس کی ڈوری اور یہ لاٹھی کس کی ہیں۔“
When she was brought forth, she sent to her father in law, saying, By the man, whose these are, am I with child: and she said, Discern, I pray thee, whose are these, the signet, and bracelets, and staff.
یہوداہ نے اُنہیں پہچان لیا۔ اُس نے کہا، ”مَیں نہیں بلکہ یہ عورت حق پر ہے، کیونکہ مَیں نے اُس کی اپنے بیٹے سیلہ سے شادی نہیں کرائی۔“ لیکن بعد میں یہوداہ کبھی بھی تمر سے ہم بستر نہ ہوا۔
And Judah acknowledged them, and said, She hath been more righteous than I; because that I gave her not to Shelah my son. And he knew her again no more.
جب جنم دینے کا وقت آیا تو معلوم ہوا کہ جُڑواں بچے ہیں۔
And it came to pass in the time of her travail, that, behold, twins were in her womb.
ایک بچے کا ہاتھ نکلا تو دائی نے اُسے پکڑ کر اُس میں سرخ دھاگا باندھ دیا اور کہا، ”یہ پہلے پیدا ہوا۔“
And it came to pass, when she travailed, that the one put out his hand: and the midwife took and bound upon his hand a scarlet thread, saying, This came out first.
لیکن اُس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا، اور اُس کا بھائی پہلے پیدا ہوا۔ یہ دیکھ کر دائی بول اُٹھی، ”تُو کس طرح پھوٹ نکلا ہے!“ اُس نے اُس کا نام فارص یعنی پھوٹ رکھا۔
And it came to pass, as he drew back his hand, that, behold, his brother came out: and she said, How hast thou broken forth? this breach be upon thee: therefore his name was called Pharez.
پھر اُس کا بھائی پیدا ہوا جس کے ہاتھ میں سرخ دھاگا بندھا ہوا تھا۔ اُس کا نام زارح یعنی چمک رکھا گیا۔
And afterward came out his brother, that had the scarlet thread upon his hand: and his name was called Zarah.