Numbers 24

اب بلعام کو اِس بات کا پورا یقین ہو گیا کہ رب کو پسند ہے کہ مَیں اسرائیلیوں کو برکت دوں۔ اِس لئے اُس نے اِس مرتبہ پہلے کی طرح جادوگری کا طریقہ استعمال نہ کیا بلکہ سیدھا ریگستان کی طرف رُخ کیا
And when Balaam saw that it pleased the LORD to bless Israel, he went not, as at other times, to seek for enchantments, but he set his face toward the wilderness.
جہاں اسرائیل اپنے اپنے قبیلوں کی ترتیب سے خیمہ زن تھا۔ یہ دیکھ کر اللہ کا روح اُس پر نازل ہوا،
And Balaam lifted up his eyes, and he saw Israel abiding in his tents according to their tribes; and the spirit of God came upon him.
اور وہ بول اُٹھا، ”بلعام بن بعور کا پیغام سنو، اُس کے پیغام پر غور کرو جو صاف صاف دیکھتا ہے،
And he took up his parable, and said, Balaam the son of Beor hath said, and the man whose eyes are open hath said:
اُس کا پیغام جو اللہ کی باتیں سن لیتا ہے، قادرِ مطلق کی رویا کو دیکھ لیتا ہے اور زمین پر گر کر پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے۔
He hath said, which heard the words of God, which saw the vision of the Almighty, falling into a trance, but having his eyes open:
اے یعقوب، تیرے خیمے کتنے شاندار ہیں! اے اسرائیل، تیرے گھر کتنے اچھے ہیں!
How goodly are thy tents, O Jacob, and thy tabernacles, O Israel!
وہ دُور تک پھیلی ہوئی وادیوں کی مانند، نہر کے کنارے لگے باغوں کی مانند، رب کے لگائے ہوئے عود کے درختوں کی مانند، پانی کے کنارے لگے دیودار کے درختوں کی مانند ہیں۔
As the valleys are they spread forth, as gardens by the river's side, as the trees of lign aloes which the LORD hath planted, and as cedar trees beside the waters.
اُن کی بالٹیوں سے پانی چھلکتا رہے گا، اُن کے بیج کو کثرت کا پانی ملے گا۔ اُن کا بادشاہ اجاج سے زیادہ طاقت ور ہو گا، اور اُن کی سلطنت سرفراز ہو گی۔
He shall pour the water out of his buckets, and his seed shall be in many waters, and his king shall be higher than Agag, and his kingdom shall be exalted.
اللہ اُنہیں مصر سے نکال لایا، اور اُنہیں جنگلی بَیل کی سی طاقت حاصل ہے۔ وہ مخالف قوموں کو ہڑپ کر کے اُن کی ہڈیاں چُور چُور کر دیتے ہیں، وہ اپنے تیر چلا کر اُنہیں مار ڈالتے ہیں۔
God brought him forth out of Egypt; he hath as it were the strength of an unicorn: he shall eat up the nations his enemies, and shall break their bones, and pierce them through with his arrows.
اسرائیل شیرببر یا شیرنی کی مانند ہے۔ جب وہ دبک کر بیٹھ جائے تو کوئی بھی اُسے چھیڑنے کی جرٲت نہیں کرتا۔ جو تجھے برکت دے اُسے برکت ملے، اور جو تجھ پر لعنت بھیجے اُس پر لعنت آئے۔“
He couched, he lay down as a lion, and as a great lion: who shall stir him up? Blessed is he that blesseth thee, and cursed is he that curseth thee.
یہ سن کر بلق آپے سے باہر ہوا۔ اُس نے تالی بجا کر اپنی حقارت کا اظہار کیا اور کہا، ”مَیں نے تجھے اِس لئے بُلایا تھا کہ تُو میرے دشمنوں پر لعنت بھیجے۔ اب تُو نے اُنہیں تینوں بار برکت ہی دی ہے۔
And Balak's anger was kindled against Balaam, and he smote his hands together: and Balak said unto Balaam, I called thee to curse mine enemies, and, behold, thou hast altogether blessed them these three times.
اب دفع ہو جا! اپنے گھر واپس بھاگ جا! مَیں نے کہا تھا کہ بڑا انعام دوں گا۔ لیکن رب نے تجھے انعام پانے سے روک دیا ہے۔“
Therefore now flee thou to thy place: I thought to promote thee unto great honour; but, lo, the LORD hath kept thee back from honour.
بلعام نے جواب دیا، ”کیا مَیں نے اُن لوگوں کو جنہیں آپ نے مجھے بُلانے کے لئے بھیجا تھا نہیں بتایا تھا
And Balaam said unto Balak, Spake I not also to thy messengers which thou sentest unto me, saying,
کہ اگر بلق اپنے محل کو چاندی اور سونے سے بھر کر بھی مجھے دے دے توبھی مَیں رب کی کسی بات کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا، خواہ میری نیت اچھی ہو یا بُری۔ مَیں صرف وہ کچھ کر سکتا ہوں جو اللہ فرماتا ہے۔
If Balak would give me his house full of silver and gold, I cannot go beyond the commandment of the LORD, to do either good or bad of mine own mind; but what the LORD saith, that will I speak?
اب مَیں اپنے وطن واپس چلا جاتا ہوں۔ لیکن پہلے مَیں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ آخرکار یہ قوم آپ کی قوم کے ساتھ کیا کچھ کرے گی۔“
And now, behold, I go unto my people: come therefore, and I will advertise thee what this people shall do to thy people in the latter days.
وہ بول اُٹھا، ”بلعام بن بعور کا پیغام سنو، اُس کا پیغام جو صاف صاف دیکھتا ہے،
And he took up his parable, and said, Balaam the son of Beor hath said, and the man whose eyes are open hath said:
اُس کا پیغام جو اللہ کی باتیں سن لیتا اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو جانتا ہے، جو قادرِ مطلق کی رویا کو دیکھ لیتا اور زمین پر گر کر پوشیدہ باتیں دیکھتا ہے۔
He hath said, which heard the words of God, and knew the knowledge of the most High, which saw the vision of the Almighty, falling into a trance, but having his eyes open:
جسے مَیں دیکھ رہا ہوں وہ اِس وقت نہیں ہے۔ جو مجھے نظر آ رہا ہے وہ قریب نہیں ہے۔ یعقوب کے گھرانے سے ستارہ نکلے گا، اور اسرائیل سے عصائے شاہی اُٹھے گا جو موآب کے ماتھوں اور سیت کے تمام بیٹوں کی کھوپڑیوں کو پاش پاش کرے گا۔
I shall see him, but not now: I shall behold him, but not nigh: there shall come a Star out of Jacob, and a Sceptre shall rise out of Israel, and shall smite the corners of Moab, and destroy all the children of Sheth.
ادوم اُس کے قبضے میں آئے گا، اُس کا دشمن سعیر اُس کی ملکیت بنے گا جبکہ اسرائیل کی طاقت بڑھتی جائے گی۔
And Edom shall be a possession, Seir also shall be a possession for his enemies; and Israel shall do valiantly.
یعقوب کے گھرانے سے ایک حکمران نکلے گا جو شہر کے بچے ہوؤں کو ہلاک کر دے گا۔“
Out of Jacob shall come he that shall have dominion, and shall destroy him that remaineth of the city.
پھر بلعام نے عمالیق کو دیکھا اور کہا، ”عمالیق قوموں میں اوّل تھا، لیکن آخرکار وہ ختم ہو جائے گا۔“
And when he looked on Amalek, he took up his parable, and said, Amalek was the first of the nations; but his latter end shall be that he perish for ever.
پھر اُس نے قینیوں کو دیکھا اور کہا، ”تیری سکونت گاہ مستحکم ہے، تیرا چٹان میں بنا گھونسلا مضبوط ہے۔
And he looked on the Kenites, and took up his parable, and said, Strong is thy dwellingplace, and thou puttest thy nest in a rock.
لیکن تُو تباہ ہو جائے گا جب اسور تجھے گرفتار کرے گا۔“
Nevertheless the Kenite shall be wasted, until Asshur shall carry thee away captive.
ایک اَور دفعہ اُس نے بات کی، ”ہائے، کون زندہ رہ سکتا ہے جب اللہ یوں کرے گا؟
And he took up his parable, and said, Alas, who shall live when God doeth this!
کِتّیم کے ساحل سے بحری جہاز آئیں گے جو اسور اور عِبر کو ذلیل کریں گے، لیکن وہ خود بھی ہلاک ہو جائیں گے۔“
And ships shall come from the coast of Chittim, and shall afflict Asshur, and shall afflict Eber, and he also shall perish for ever.
پھر بلعام اُٹھ کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔ بلق بھی وہاں سے چلا گیا۔
And Balaam rose up, and went and returned to his place: and Balak also went his way.