Hebrews 1

ماضی میں اللہ مختلف موقعوں پر اور کئی طریقوں سے ہمارے باپ دادا سے ہم کلام ہوا۔ اُس وقت اُس نے یہ نبیوں کے وسیلے سے کیا
God, who at sundry times and in divers manners spake in time past unto the fathers by the prophets,
لیکن اِن آخری دنوں میں وہ اپنے فرزند کے وسیلے سے ہم سے ہم کلام ہوا، اُسی کے وسیلے سے جسے اُس نے سب چیزوں کا وارث بنا دیا اور جس کے وسیلے سے اُس نے کائنات کو بھی خلق کیا۔
Hath in these last days spoken unto us by his Son, whom he hath appointed heir of all things, by whom also he made the worlds;
فرزند اللہ کا شاندار جلال منعکس کرتا اور اُس کی ذات کی عین شبیہ ہے۔ وہ اپنے قوی کلام سے سب کچھ سنبھالے رکھتا ہے۔ جب وہ دنیا میں تھا تو اُس نے ہمارے لئے گناہوں سے پاک صاف ہو جانے کا انتظام قائم کیا۔ اِس کے بعد وہ آسمان پر قادرِ مطلق کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا۔
Who being the brightness of his glory, and the express image of his person, and upholding all things by the word of his power, when he had by himself purged our sins, sat down on the right hand of the Majesty on high;
فرزند فرشتوں سے کہیں عظیم ہے، اِتنا جتنا اُس کا میراث میں پایا ہوا نام اُن کے ناموں سے عظیم ہے۔
Being made so much better than the angels, as he hath by inheritance obtained a more excellent name than they.
کیونکہ اللہ نے کس فرشتے سے کبھی کہا، ”تُو میرا فرزند ہے، آج مَیں تیرا باپ بن گیا ہوں۔“ یہ بھی اُس نے کسی فرشتے کے بارے میں کبھی نہیں کہا، ”مَیں اُس کا باپ ہوں گا اور وہ میرا فرزند ہو گا۔“
For unto which of the angels said he at any time, Thou art my Son, this day have I begotten thee? And again, I will be to him a Father, and he shall be to me a Son?
اور جب اللہ اپنے پہلوٹھے فرزند کو آسمانی دنیا میں لاتا ہے تو وہ فرماتا ہے، ”اللہ کے تمام فرشتے اُس کی پرستش کریں۔“
And again, when he bringeth in the firstbegotten into the world, he saith, And let all the angels of God worship him.
فرشتوں کے بارے میں وہ فرماتا ہے، ”وہ اپنے فرشتوں کو ہَوائیں اور اپنے خادموں کو آگ کے شعلے بنا دیتا ہے۔“
And of the angels he saith, Who maketh his angels spirits, and his ministers a flame of fire.
لیکن فرزند کے بارے میں وہ کہتا ہے، ”اے خدا، تیرا تخت ازل سے ابد تک قائم و دائم رہے گا، اور انصاف کا شاہی عصا تیری بادشاہی پر حکومت کرے گا۔
But unto the Son he saith, Thy throne, O God, is for ever and ever: a sceptre of righteousness is the sceptre of thy kingdom.
تُو نے راست بازی سے محبت اور بےدینی سے نفرت کی، اِس لئے اللہ تیرے خدا نے تجھے خوشی کے تیل سے مسح کر کے تجھے تیرے ساتھیوں سے کہیں زیادہ سرفراز کر دیا۔“
Thou hast loved righteousness, and hated iniquity; therefore God, even thy God, hath anointed thee with the oil of gladness above thy fellows.
وہ یہ بھی فرماتا ہے، ”اے رب، تُو نے ابتدا میں دنیا کی بنیاد رکھی، اور تیرے ہی ہاتھوں نے آسمانوں کو بنایا۔
And, Thou, Lord, in the beginning hast laid the foundation of the earth; and the heavens are the works of thine hands:
یہ تو تباہ ہو جائیں گے، لیکن تُو قائم رہے گا۔ یہ سب لباس کی طرح گھس پھٹ جائیں گے
They shall perish; but thou remainest; and they all shall wax old as doth a garment;
اور تُو اِنہیں چادر کی طرح لپیٹے گا، پرانے کپڑے کی طرح یہ بدلے جائیں گے۔ لیکن تُو وہی کا وہی رہتا ہے، اور تیری زندگی کبھی ختم نہیں ہوتی۔“
And as a vesture shalt thou fold them up, and they shall be changed: but thou art the same, and thy years shall not fail.
اللہ نے کبھی بھی اپنے کسی فرشتے سے یہ بات نہ کہی، ”میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک مَیں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ بنا دوں۔“
But to which of the angels said he at any time, Sit on my right hand, until I make thine enemies thy footstool?
پھر فرشتے کیا ہیں؟ وہ تو سب خدمت گزار روحیں ہیں جنہیں اللہ اُن کی خدمت کرنے کے لئے بھیج دیتا ہے جنہیں میراث میں نجات پانی ہے۔
Are they not all ministering spirits, sent forth to minister for them who shall be heirs of salvation?