Numbers 25

در زمانی که قوم اسرائیل در درّهٔ اقاقیا اردو زده بودند، مردان آنها با دختران موآب زنا می‌کردند.
جب اسرائیلی شِطّیم میں رہ رہے تھے تو اسرائیلی مرد موآبی عورتوں سے زناکاری کرنے لگے۔
این دخترها آنها را دعوت می‌کردند تا در مراسم قربانی که برای بُتهای ایشان برگزار می‌شد، شرکت کنند. مردان اسرائیلی گوشت قربانی را می‌خوردند و بُتهای ایشان را پرستش می‌کردند.
یہ ایسا ہوا کہ موآبی عورتیں اپنے دیوتاؤں کو قربانیاں پیش کرتے وقت اسرائیلیوں کو شریک ہونے کی دعوت دینے لگیں۔ اسرائیلی دعوت قبول کر کے قربانیوں سے کھانے اور دیوتاؤں کو سجدہ کرنے لگے۔
به مرور زمان، قوم اسرائیل به پرستش بت بعل‌فغور پرداختند. پس خشم خداوند بر قوم اسرائیل افروخته شد
اِس طریقے سے اسرائیلی موآبی دیوتا بنام بعل فغور کی پوجا کرنے لگے، اور رب کا غضب اُن پر آن پڑا۔
و به موسی فرمود: «همهٔ رهبران طایفه‌های اسرائیل را در روز روشن در حضور من اعدام کنید تا خشم سهمگین من از سر قوم اسرائیل دور شود.»
اُس نے موسیٰ سے کہا، ”اِس قوم کے تمام راہنماؤں کو سزائے موت دے کر سورج کی روشنی میں رب کے سامنے لٹکا، ورنہ رب کا اسرائیلیوں پر سے غضب نہیں ٹلے گا۔“
موسی به قضات اسرائیل گفت: «تمام کسانی را که بت بعل‌فغور را پرستش کرده‌اند، اعدام کنید.»
چنانچہ موسیٰ نے اسرائیل کے قاضیوں سے کہا، ”لازم ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنے اُن آدمیوں کو جان سے مار دے جو بعل فغور دیوتا کی پوجا میں شریک ہوئے ہیں۔“
سپس یکی از مردان اسرائیلی در برابر چشمان موسی و تمام مردمی که در جلوی خیمهٔ عبادت گریه می‌کردند، یک زن مدیانی را با خود به اردوگاه آورد.
موسیٰ اور اسرائیل کی پوری جماعت ملاقات کے خیمے کے دروازے پر جمع ہو کر رونے لگے۔ اتفاق سے اُسی وقت ایک آدمی وہاں سے گزرا جو ایک مِدیانی عورت کو اپنے گھر لے جا رہا تھا۔
وقتی فینحاس، پسر العازار، نوه هارون کاهن این را دید، نیزه‌ای را به دست گرفت
یہ دیکھ کر ہارون کا پوتا فینحاس بن اِلی عزر جماعت سے نکلا اور نیزہ پکڑ کر
و به دنبال آن مرد، به درون چادری که دختر را به آن برده بود رفت و نیزه را در بدن هردوی آنها فروبرد و به این ترتیب، بلا از سر مردم اسرائیل رفع شد.
اُس اسرائیلی کے پیچھے چل پڑا۔ وہ عورت سمیت اپنے خیمے میں داخل ہوا تو فینحاس نے اُن کے پیچھے پیچھے جا کر نیزہ اِتنے زور سے مارا کہ وہ دونوں میں سے گزر گیا۔ اُس وقت وبا پھیلنے لگی تھی، لیکن فینحاس کے اِس عمل سے وہ رُک گئی۔
با وجود این، بیست و چهار هزار نفر در اثر آن بلا تلف شدند.
توبھی 24,000 افراد مر چکے تھے۔
خداوند به موسی فرمود:
رب نے موسیٰ سے کہا،
«فینحاس، پسر العازار، نوه هارون کاهن، خشم مرا فرونشاند. او نخواست که به غیراز من خدای دیگری را پرستش کند، بنابراین من هم قوم اسرائیل را تلف نکردم.
”ہارون کے پوتے فینحاس بن اِلی عزر نے اسرائیلیوں پر میرا غصہ ٹھنڈا کر دیا ہے۔ میری غیرت اپنا کر وہ اسرائیل میں دیگر معبودوں کی پوجا کو برداشت نہ کر سکا۔ اِس لئے میری غیرت نے اسرائیلیوں کو نیست و نابود نہیں کیا۔
پس به او بگو که چون او حرمت مرا حفظ کرد و باعث شد که من گناه قوم اسرائیل را ببخشم، من با او یک پیمان ابدی می‌بندم که او و فرزندانش برای همیشه کاهن باشند.»
لہٰذا اُسے بتا دینا کہ مَیں اُس کے ساتھ سلامتی کا عہد قائم کرتا ہوں۔
پس به او بگو که چون او حرمت مرا حفظ کرد و باعث شد که من گناه قوم اسرائیل را ببخشم، من با او یک پیمان ابدی می‌بندم که او و فرزندانش برای همیشه کاهن باشند.»
اِس عہد کے تحت اُسے اور اُس کی اولاد کو ابد تک امام کا عُہدہ حاصل رہے گا، کیونکہ اپنے خدا کی خاطر غیرت کھا کر اُس نے اسرائیلیوں کا کفارہ دیا۔“
نام مرد اسرائیلی که با آن زن مدیانی کشته شد، زمری بود. او پسر سالو، یکی از رؤسای طایفهٔ شمعون بود.
جس آدمی کو مِدیانی عورت کے ساتھ مار دیا گیا اُس کا نام زِمری بن سلو تھا، اور وہ شمعون کے قبیلے کے ایک آبائی گھرانے کا سرپرست تھا۔
زن مدیانی هم کزبی نام داشت و دختر صور، یکی از بزرگان خاندان مدیان بود.
مِدیانی عورت کا نام کزبی تھا، اور وہ صور کی بیٹی تھی جو مِدیانیوں کے ایک آبائی گھرانے کا سرپرست تھا۔
خداوند به موسی فرمود:
رب نے موسیٰ سے کہا،
«مدیان را سرکوب کن و ایشان را از بین ببر.
”مِدیانیوں کو دشمن قرار دے کر اُنہیں مار ڈالنا۔
زیرا آنها با حیله و نیرنگ شما را گمراه ساختند و به پرستش بت بعل‌فغور تشویق کردند و واقعهٔ مرگ کزبی این امر را ثابت می‌سازد.»
کیونکہ اُنہوں نے اپنی چالاکیوں سے تمہارے ساتھ دشمن کا سا سلوک کیا، اُنہوں نے تمہیں بعل فغور کی پوجا کرنے پر اُکسایا اور تمہیں اپنی بہن مِدیانی سردار کی بیٹی کزبی کے ذریعے جسے وبا پھیلتے وقت مار دیا گیا بہکایا۔“