قربانگاه قربانی سوختنی را از چوب اقاقیا ساختند که ارتفاع آن یک متر و سی سانتیمتر و طول و آن دو متر و بیست سانتیمتر بود.
بضلی ایل نے کیکر کی لکڑی کی ایک اَور قربان گاہ بنائی جو بھسم ہونے والی قربانیوں کے لئے تھی۔ اُس کی اونچائی ساڑھے چار فٹ، اُس کی لمبائی اور چوڑائی ساڑھے سات سات فٹ تھی۔
ظروف قربانگاه، یعنی دیگ، خاکانداز، کاسه، چنگک و آتشدان آن، همه برنزی بودند.
اُس کا تمام ساز و سامان اور برتن بھی پیتل کے تھے یعنی راکھ کو اُٹھا کر لے جانے کی بالٹیاں، بیلچے، کانٹے، جلتے ہوئے کوئلے کے لئے برتن اور چھڑکاؤ کے کٹورے۔
آتشدان قربانگاه برنزی بود و پایینتر از لب و در نصف ارتفاع آن قرار داشت.
قربان گاہ کو اُٹھانے کے لئے اُس نے پیتل کا جنگلا بنایا۔ وہ اوپر سے کھلا تھا اور یوں بنایا گیا کہ جب قربان گاہ اُس میں رکھی جائے تو وہ اُس کنارے تک پہنچے جو قربان گاہ کی آدھی اونچائی پر لگی تھی۔
حوض برنزی و پایهٔ برنزی آن را از آیینههایی ساخت که هدیهٔ زنهایی بود که جلوی در خیمهٔ مقدّس خداوند خدمت میکردند.
بضلی ایل نے دھونے کا حوض اور اُس کا ڈھانچا بھی پیتل سے بنایا۔ اُس کا پیتل اُن عورتوں کے آئینوں سے ملا تھا جو ملاقات کے خیمے کے دروازے پر خدمت کرتی تھیں۔
پردهٔ سمت مغرب آن بیست و دو متر و دارای ده ستون و ده پایه بود. چنگکها و پشتبندهای ستونها از نقره بودند.
خیمے کے پیچھے مغرب کی طرف چاردیواری کی چوڑائی 75 فٹ تھی۔ کپڑے کے علاوہ اُس کے لئے 10 کھمبے، 10 پائے اور کپڑا لگانے کے لئے چاندی کی ہکیں اور پٹیاں بنائی گئیں۔
پردههای هر دو طرف دروازه شش متر و شصت سانتیمتر و هرکدام دارای سه ستون و سه پایه بود.
کپڑا دروازے کے دائیں طرف ساڑھے 22 فٹ چوڑا تھا اور اُس کے بائیں طرف بھی اُتنا ہی چوڑا۔ اُسے دونوں طرف تین تین کھمبوں کے ساتھ لگایا گیا جو پیتل کے پائیوں پر کھڑے تھے۔
پردههای هر دو طرف دروازه شش متر و شصت سانتیمتر و هرکدام دارای سه ستون و سه پایه بود.
کپڑا دروازے کے دائیں طرف ساڑھے 22 فٹ چوڑا تھا اور اُس کے بائیں طرف بھی اُتنا ہی چوڑا۔ اُسے دونوں طرف تین تین کھمبوں کے ساتھ لگایا گیا جو پیتل کے پائیوں پر کھڑے تھے۔
پایههای ستونها برنزی، امّا چنگکها و پشتبندها و سرپوش ستونها نقرهای بودند.
کھمبے پیتل کے پائیوں پر کھڑے تھے، اور پردے چاندی کی ہکوں اور پٹیوں سے کھمبوں کے ساتھ لگے تھے۔ کھمبوں کے اوپر کے سِروں پر چاندی چڑھائی گئی تھی۔ صحن کے تمام کھمبوں پر چاندی کی پٹیاں لگی تھیں۔
پردهٔ دروازهٔ حیاط از کتان نفیس و پشم به رنگهای آبی، بنفش و قرمز، به هم تابیده بود. طول آن نُه متر و ارتفاع آن دو متر بود.
چاردیواری کے دروازے کا پردہ نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے بنایا گیا، اور اُس پر کڑھائی کا کام کیا گیا۔ وہ 30 فٹ چوڑا اور چاردیواری کے دوسرے پردوں کی طرح ساڑھے سات فٹ اونچا تھا۔
این است فهرست مواد فلزیی كه در ساخت خیمهٔ مقدّس خداوند به كار رفتند. این فهرست مطابق سفارش موسی و توسط لاویانی كه تحت نظارت ایتامار پسر هارون كاهن كار میكردند تهیّه شده بود.
ذیل میں اُس سامان کی فہرست ہے جو مقدِس کی تعمیر کے لئے استعمال ہوا۔ موسیٰ کے حکم پر امامِ اعظم ہارون کے بیٹے اِتمر نے لاویوں کی معرفت یہ فہرست تیار کی۔
اهولیاب پسر اخیسامک از طایفهٔ دان كه حكاک و طراح و بافندهٔ كتان لطیف از جنس پشم ارغوانی، بنفش و قرمز بود، به او كمک میكرد.
اُس کے ساتھ دان کے قبیلے کا اُہلیاب بن اخی سمک تھا جو کاری گری کے ہر کام اور کڑھائی کے کام میں ماہر تھا۔ وہ نیلے، ارغوانی اور قرمزی رنگ کے دھاگے اور باریک کتان سے کپڑا بنانے میں بھی ماہر تھا۔)
مقدار طلایی که مردم هدیه دادند در حدود یک تن، مطابق معیار رسمی بود.
اُس سونے کا وزن جو لوگوں کے ہدئیوں سے جمع ہوا اور مقدِس کی تعمیر کے لئے استعمال ہوا تقریباً 1,000 کلو گرام تھا (اُسے مقدِس کے باٹوں کے حساب سے تولا گیا)۔
مقدار نقرهای که برای صد پایهٔ صد ستون خیمه و پردهٔ آن به کار رفت سه هزار و چهارصد و سی كیلوگرم بود، یعنی سی و چهار کیلو برای هر پایه.
چونکہ دیواروں کے تختوں کے پائے اور مُقدّس ترین کمرے کے دروازے کے ستونوں کے پائے چاندی کے تھے اِس لئے تقریباً پوری چاندی اِن 100 پائیوں کے لئے صَرف ہوئی۔