Isaiah 49

Poslouchejte mne ostrovové, a pozorujte národové dalecí: Hospodin hned z života povolal mne, od života matky mé v pamět uvedl jméno mé,
اے جزیرو، سنو! اے دُوردراز قومو، دھیان دو! رب نے مجھے پیدائش سے پہلے ہی بُلایا، میری ماں کے پیٹ سے ہی میرے نام کو یاد کرتا آیا ہے۔
A učinil ústa má podobná meči ostrému. V stínu ruky své skryl mne, a učiniv ze mne střelu vypulerovanou, v toule svém schoval mne.
اُس نے میرے منہ کو تیز تلوار بنا کر مجھے اپنے ہاتھ کے سائے میں چھپائے رکھا، مجھے تیز تیر بنا کر اپنے ترکش میں پوشیدہ رکھا ہے۔
A řekl mi: Služebník můj jsi, v Izraeli skrze tebe oslaven budu.
وہ مجھ سے ہم کلام ہوا، ”تُو میرا خادم اسرائیل ہے، جس کے ذریعے مَیں اپنا جلال ظاہر کروں گا۔“
Já pak řekl jsem: Nadarmo jsem pracoval, daremně a marně sílu svou jsem strávil. Ale však soud můj jestiť u Hospodina, a práce má u Boha mého.
مَیں تو بولا تھا، ”میری محنت مشقت بےسود تھی، مَیں نے اپنی طاقت بےفائدہ اور بےمقصد ضائع کر دی ہے۔ تاہم میرا حق اللہ کے ہاتھ میں ہے، میرا خدا ہی مجھے اجر دے گا۔“
A nyní dí Hospodin, kterýž mne sformoval hned od života za služebníka svého, abych zase přivedl k němu Jákoba; (byť pak i nebyl sebrán Izrael, slávu však mám před očima Hospodinovýma; nebo Bůh můj jest síla má);
لیکن اب رب مجھ سے ہم کلام ہوا ہے، وہ جو ماں کے پیٹ سے ہی مجھے اِس مقصد سے تشکیل دیتا آیا ہے کہ مَیں اُس کی خدمت کر کے یعقوب کی اولاد کو اُس کے پاس واپس لاؤں اور اسرائیل کو اُس کے حضور جمع کروں۔ رب ہی کے حضور میرا احترام کیا جائے گا، میرا خدا ہی میری قوت ہو گا۔
I to řekl Hospodin: Máloť by to bylo, abys mi byl služebníkem ku pozdvižení pokolení Jákobových, a k navrácení ostatků Izraelských; protož dal jsem tě za světlo pohanům, abys byl spasení mé až do končin země.
وہی فرماتا ہے، ”تُو میری خدمت کر کے نہ صرف یعقوب کے قبیلے بحال کرے گا اور اُنہیں واپس لائے گا جنہیں مَیں نے محفوظ رکھا ہے بلکہ تُو اِس سے کہیں بڑھ کر کرے گا۔ کیونکہ مَیں تجھے دیگر اقوام کی روشنی بنا دوں گا تاکہ تُو میری نجات کو دنیا کی انتہا تک پہنچائے۔“
Toto praví Hospodin vykupitel Izraelův, Svatý jeho, tomu, jímž pohrdá každý, a jehož sobě oškliví národové, služebníku panujících: Králové, vidouce tě, povstanou, a knížata klaněti se budou pro Hospodina, kterýž věrný jest, Svatého Izraelského, jenž tě vyvolil.
رب جو اسرائیل کا چھڑانے والا اور اُس کا قدوس ہے اُس سے ہم کلام ہوا ہے جسے لوگ حقیر جانتے ہیں، جس سے دیگر اقوام گھن کھاتے ہیں اور جو حکمرانوں کا غلام ہے۔ اُس سے رب فرماتا ہے، ”تجھے دیکھتے ہی بادشاہ کھڑے ہو جائیں گے اور رئیس منہ کے بل جھک جائیں گے۔ یہ رب کی خاطر ہی پیش آئے گا جو وفادار ہے اور اسرائیل کے قدوس کے باعث ہی وقوع پذیر ہو گا جس نے تجھے چن لیا ہے۔“
Toto praví Hospodin: V čas milosti vyslyším tě, a ve dni spasení spomohu tobě. Nadto ostříhati tě budu, a dám tě v smlouvu lidu, abys utvrdil zemi, a v dědictví uvedl dědictví zpuštěná;
رب فرماتا ہے، ”قبولیت کے وقت مَیں تیری سنوں گا، نجات کے دن تیری مدد کروں گا۔ تب مَیں تجھے محفوظ رکھ کر مقرر کروں گا کہ تُو میرے اور قوم کے درمیان عہد بنے، کہ تُو ملک بحال کر کے تباہ شدہ موروثی زمین کو نئے سرے سے تقسیم کرے،
Abys řekl vězňům: Vyjděte, těm, kteříž jsou ve tmách: Zjevte se. I budou se pásti podlé cest, a na všech místech vysokých bude pastva jejich.
کہ تُو قیدیوں کو کہے، ’نکل آؤ‘ اور تاریکی میں بسنے والوں کو، ’روشنی میں آ جاؤ!‘ تب میری بھیڑیں راستوں کے کنارے کنارے چریں گی، اور تمام بنجر بلندیوں پر بھی اُن کی ہری ہری چراگاہیں ہوں گی۔
Nebudou lačněti ani žízniti, nebude na ně bíti horko ani slunce; nebo slitovník jejich zprovodí je, a podlé pramenů vod povede je.
نہ اُنہیں بھوک ستائے گی نہ پیاس۔ نہ تپتی گرمی، نہ دھوپ اُنہیں جُھلسائے گی۔ کیونکہ جو اُن پر ترس کھاتا ہے وہ اُن کی قیادت کر کے اُنہیں چشموں کے پاس لے جائے گا۔
Přes to způsobím na všech horách svých cesty, a silnice mé vyvýšeny budou.
مَیں پہاڑوں کو ہموار راستوں میں تبدیل کر دوں گا جبکہ میری شاہراہیں اونچی ہو جائیں گی۔
Aj, tito zdaleka přijdou, aj, onino od půlnoci a od moře, a jiní z země Sinim.
تب وہ دُوردراز علاقوں سے آئیں گے، کچھ شمال سے، کچھ مغرب سے، اور کچھ مصر کے جنوبی شہر اسوان سے بھی۔“
Prozpěvujte nebesa, a plésej země, a zvučně prokřikujte hory; neboť jest potěšil Hospodin lidu svého, a nad chudými svými slitoval se.
اے آسمان، خوشی کے نعرے لگا! اے زمین، باغ باغ ہو جا! اے پہاڑو، شادمانی کے گیت گاؤ! کیونکہ رب نے اپنی قوم کو تسلی دی ہے، اُسے اپنے مصیبت زدہ لوگوں پر ترس آیا ہے۔
Ale řekl Sion: Opustiltě mne Hospodin, a Pán zapomenul se na mne.
لیکن صیون کہتی ہے، ”رب نے مجھے ترک کر دیا ہے، قادرِ مطلق مجھے بھول گیا ہے۔“
I zdaliž se může zapomenouti žena nad nemluvňátkem svým, aby se neslitovala nad plodem života svého? A byť se pak ony zapomněly, já však nezapomenu se na tě.
”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا ماں اپنے شیرخوار کو بھول سکتی ہے؟ جس بچے کو اُس نے جنم دیا، کیا وہ اُس پر ترس نہیں کھائے گی؟ شاید وہ بھول جائے، لیکن مَیں تجھے کبھی نہیں بھولوں گا!
Aj, na dlaních vyryl jsem tě, zdi tvé jsou vždycky přede mnou.
دیکھ، مَیں نے تجھے اپنی دونوں ہتھیلیوں میں کندہ کر دیا ہے، تیری زمین بوس دیواریں ہمیشہ میرے سامنے ہیں۔
Pospíšíť k tobě synové tvoji, ti pak, kteříž tě bořili a kazili, odejdou od tebe.
جو تجھے نئے سرے سے تعمیر کرنا چاہتے ہیں وہ دوڑ کر واپس آ رہے ہیں جبکہ جن لوگوں نے تجھے ڈھا کر تباہ کیا وہ تجھ سے نکل رہے ہیں۔
Pozdvihni vůkol očí svých, a pohleď, všickni ti shromáždíce se, přijdou k tobě. Živť jsem já, praví Hospodin, že se jimi všemi jako okrasou přioděješ, a otočíš se jimi jako halží nevěsta,
اے صیون بیٹی، نظر اُٹھا کر چاروں طرف دیکھ! یہ سب جمع ہو کر تیرے پاس آ رہے ہیں۔ میری حیات کی قَسم، یہ سب تیرے زیورات بنیں گے جن سے تُو اپنے آپ کو دُلھن کی طرح آراستہ کرے گی۔“ یہ رب کا فرمان ہے۔
Proto že pustiny tvé, a pouště tvé, a zbořeniny země tvé že tehdáž těsné budou, příčinou obyvatelů, když vzdáleni budou ti, kteříž tě zžírali;
”فی الحال تیرے ملک میں چاروں طرف کھنڈرات، اُجاڑ اور تباہی نظر آتی ہے، لیکن آئندہ وہ اپنے باشندوں کی کثرت کے باعث چھوٹا ہو گا۔ اور جنہوں نے تجھے ہڑپ کر لیا تھا وہ دُور رہیں گے۔
Tak že řeknou před tebou synové siroby tvé: Těsné mi jest toto místo, ustup mi, abych bydliti mohl.
پہلے تُو بےاولاد تھی، لیکن اب تیرے اِتنے بچے ہوں گے کہ وہ تیرے پاس آ کر کہیں گے، ’میرے لئے جگہ کم ہے، مجھے اَور زمین دیں تاکہ مَیں آرام سے زندگی گزار سکوں۔‘ تُو اپنے کانوں سے یہ سنے گی۔
I díš v srdci svém: Kdo mi naplodil těchto? Nebo jsem já byla osiřelá a osamělá, sem i tam přecházející a odcházející. Tyto, pravím, kdo vychoval? Aj, pozůstala jsem byla sama jediná. Kdež tito byli?
تب تُو حیران ہو کر دل میں سوچے گی، ’کس نے یہ بچے میرے لئے پیدا کئے؟ مَیں تو بچوں سے محروم اور بےاولاد تھی، مجھے جلاوطن کر کے ہٹایا گیا تھا۔ کس نے اِن کو پالا؟ مجھے تو تنہا ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ تو پھر یہ کہاں سے آ گئے ہیں‘؟“
Toto praví Panovník Hospodin: Aj, já pozdvihnu k národům ruky své, a k lidem vyzdvihnu korouhev svou, aby přinesli syny tvé na rukou, a dcery tvé aby na plecech neseny byly.
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، ”دیکھ، مَیں دیگر قوموں کو ہاتھ سے اشارہ دے کر اُن کے سامنے اپنا جھنڈا گاڑ دوں گا۔ تب وہ تیرے بیٹوں کو اُٹھا کر اپنے بازوؤں میں واپس لے آئیں گے اور تیری بیٹیوں کو کندھے پر بٹھا کر تیرے پاس پہنچائیں گے۔
I budou králové pěstounové tvoji, a královny jejich chovačky tvé. Tváří k zemi skláněti se budou před tebou, a prach noh tvých lízati budou, a poznáš, že jsem já Hospodin, a že nebývají zahanbeni, kteříž na mne očekávají.
بادشاہ تیرے بچوں کی دیکھ بھال کریں گے، اور رانیاں اُن کی دائیاں ہوں گی۔ وہ منہ کے بل جھک کر تیرے پاؤں کی خاک چاٹیں گے۔ تب تُو جان لے گی کہ مَیں ہی رب ہوں، کہ جو بھی مجھ سے اُمید رکھے وہ کبھی شرمندہ نہیں ہو گا۔“
Ale díš: Zdaliž odjato bude reku udatnému to, což uchvátil? A zdaž zajatý lid spravedlivého vyproštěn bude?
کیا سورمے کا لُوٹا ہوا مال اُس کے ہاتھ سے چھینا جا سکتا ہے؟ یا کیا ظالم کے قیدی اُس کے قبضے سے چھوٹ سکتے ہیں؟ مشکل ہی سے۔
Anobrž tak praví Hospodin: I zajatý lid reku udatnému odjat bude, a to, což uchvátil násilník, vyproštěno bude; nebo s tím, kterýž se s tebou nesnadní, já se nesnadniti budu, a syny tvé já vysvobodím.
لیکن رب فرماتا ہے، ”یقیناً سورمے کا قیدی اُس کے ہاتھ سے چھین لیا جائے گا اور ظالم کا لُوٹا ہوا مال اُس کے قبضے سے چھوٹ جائے گا۔ جو تجھ سے جھگڑے اُس کے ساتھ مَیں خود جھگڑوں گا، مَیں ہی تیرے بچوں کو نجات دوں گا۔
A nakrmím ty, kteříž tě utiskují, vlastním masem jejich, a jako mstem krví svou se zpijí. I poznáť všeliké tělo, že já Hospodin jsem spasitel tvůj, a vykupitel tvůj Bůh silný Jákobův.
جنہوں نے تجھ پر ظلم کیا اُنہیں مَیں اُن کا اپنا گوشت کھلاؤں گا، اُن کا اپنا خون یوں پلاؤں گا کہ وہ اُسے نئی مَے کی طرح پی پی کر مست ہو جائیں گے۔ تب تمام انسان جان لیں گے کہ مَیں رب تیرا نجات دہندہ، تیرا چھڑانے والا اور یعقوب کا زبردست سورما ہوں۔“