Exodus 5

پھر موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے۔ اُنہوں نے کہا، ”رب اسرائیل کا خدا فرماتا ہے، ’میری قوم کو ریگستان میں جانے دے تاکہ وہ میرے لئے عید منائیں‘۔“
And afterward Moses and Aaron went in, and told Pharaoh, Thus saith the LORD God of Israel, Let my people go, that they may hold a feast unto me in the wilderness.
فرعون نے جواب دیا، ”یہ رب کون ہے؟ مَیں کیوں اُس کا حکم مان کر اسرائیلیوں کو جانے دوں؟ نہ مَیں رب کو جانتا ہوں، نہ اسرائیلیوں کو جانے دوں گا۔“
And Pharaoh said, Who is the LORD, that I should obey his voice to let Israel go? I know not the LORD, neither will I let Israel go.
ہارون اور موسیٰ نے کہا، ”عبرانیوں کا خدا ہم پر ظاہر ہوا ہے۔ اِس لئے مہربانی کر کے ہمیں اجازت دیں کہ ریگستان میں تین دن کا سفر کر کے رب اپنے خدا کے حضور قربانیاں پیش کریں۔ کہیں وہ ہمیں کسی بیماری یا تلوار سے نہ مارے۔“
And they said, The God of the Hebrews hath met with us: let us go, we pray thee, three days' journey into the desert, and sacrifice unto the LORD our God; lest he fall upon us with pestilence, or with the sword.
لیکن مصر کے بادشاہ نے انکار کیا، ”موسیٰ اور ہارون، تم لوگوں کو کام سے کیوں روک رہے ہو؟ جاؤ، جو کام ہم نے تم کو دیا ہے اُس پر لگ جاؤ!
And the king of Egypt said unto them, Wherefore do ye, Moses and Aaron, let the people from their works? get you unto your burdens.
اسرائیلی ویسے بھی تعداد میں بہت بڑھ گئے ہیں، اور تم اُنہیں کام کرنے سے روک رہے ہو۔“
And Pharaoh said, Behold, the people of the land now are many, and ye make them rest from their burdens.
اُسی دن فرعون نے مصری نگرانوں اور اُن کے تحت کے اسرائیلی نگرانوں کو حکم دیا،
And Pharaoh commanded the same day the taskmasters of the people, and their officers, saying,
”اب سے اسرائیلیوں کو اینٹیں بنانے کے لئے بھوسا مت دینا، بلکہ وہ خود جا کر بھوسا جمع کریں۔
Ye shall no more give the people straw to make brick, as heretofore: let them go and gather straw for themselves.
توبھی وہ اُتنی ہی اینٹیں بنائیں جتنی پہلے بناتے تھے۔ وہ سُست ہو گئے ہیں اور اِسی لئے چیخ رہے ہیں کہ ہمیں جانے دیں تاکہ اپنے خدا کو قربانیاں پیش کریں۔
And the tale of the bricks, which they did make heretofore, ye shall lay upon them; ye shall not diminish ought thereof: for they be idle; therefore they cry, saying, Let us go and sacrifice to our God.
اُن سے اَور زیادہ سخت کام کراؤ، اُنہیں کام میں لگائے رکھو۔ اُن کے پاس اِتنا وقت ہی نہ ہو کہ وہ جھوٹی باتوں پر دھیان دیں۔“
Let there more work be laid upon the men, that they may labour therein; and let them not regard vain words.
مصری نگران اور اُن کے تحت کے اسرائیلی نگرانوں نے لوگوں کے پاس جا کر اُن سے کہا، ”فرعون کا حکم ہے کہ تمہیں بھوسا نہ دیا جائے۔
And the taskmasters of the people went out, and their officers, and they spake to the people, saying, Thus saith Pharaoh, I will not give you straw.
اِس لئے خود جاؤ اور بھوسا ڈھونڈ کر جمع کرو۔ لیکن خبردار! اُتنی ہی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے بناتے تھے۔“
Go ye, get you straw where ye can find it: yet not ought of your work shall be diminished.
یہ سن کر اسرائیلی بھوسا جمع کرنے کے لئے پورے ملک میں پھیل گئے۔
So the people were scattered abroad throughout all the land of Egypt to gather stubble instead of straw.
مصری نگران یہ کہہ کر اُن پر دباؤ ڈالتے رہے کہ اُتنی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے بناتے تھے۔
And the taskmasters hasted them, saying, Fulfil your works, your daily tasks, as when there was straw.
جو اسرائیلی نگران اُنہوں نے مقرر کئے تھے اُنہیں وہ پیٹتے اور کہتے رہے، ”تم نے کل اور آج اُتنی اینٹیں کیوں نہیں بنوائیں جتنی پہلے بنواتے تھے؟“
And the officers of the children of Israel, which Pharaoh's taskmasters had set over them, were beaten, and demanded, Wherefore have ye not fulfilled your task in making brick both yesterday and to day, as heretofore?
پھر اسرائیلی نگران فرعون کے پاس گئے۔ اُنہوں نے شکایت کر کے کہا، ”آپ اپنے خادموں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہیں؟
Then the officers of the children of Israel came and cried unto Pharaoh, saying, Wherefore dealest thou thus with thy servants?
ہمیں بھوسا نہیں دیا جا رہا اور ساتھ ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ اُتنی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے بناتے تھے۔ نتیجے میں ہمیں مارا پیٹا بھی جا رہا ہے حالانکہ ایسا کرنے میں آپ کے اپنے لوگ غلطی پر ہیں۔“
There is no straw given unto thy servants, and they say to us, Make brick: and, behold, thy servants are beaten; but the fault is in thine own people.
فرعون نے جواب دیا، ”تم لوگ سُست ہو، تم کام کرنا نہیں چاہتے۔ اِس لئے تم یہ جگہ چھوڑنا اور رب کو قربانیاں پیش کرنا چاہتے ہو۔
But he said, Ye are idle, ye are idle: therefore ye say, Let us go and do sacrifice to the LORD.
اب جاؤ، کام کرو۔ تمہیں بھوسا نہیں دیا جائے گا، لیکن خبردار! اُتنی ہی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے بناتے تھے۔“
Go therefore now, and work; for there shall no straw be given you, yet shall ye deliver the tale of bricks.
جب اسرائیلی نگرانوں کو بتایا گیا کہ اینٹوں کی مطلوبہ تعداد کم نہ کرو تو وہ سمجھ گئے کہ ہم پھنس گئے ہیں۔
And the officers of the children of Israel did see that they were in evil case, after it was said, Ye shall not minish ought from your bricks of your daily task.
فرعون کے محل سے نکل کر اُن کی ملاقات موسیٰ اور ہارون سے ہوئی جو اُن کے انتظار میں تھے۔
And they met Moses and Aaron, who stood in the way, as they came forth from Pharaoh:
اُنہوں نے موسیٰ اور ہارون سے کہا، ”رب خود آپ کی عدالت کرے۔ کیونکہ آپ کے سبب سے فرعون اور اُس کے ملازموں کو ہم سے گھن آتی ہے۔ آپ نے اُنہیں ہمیں مار دینے کا موقع دے دیا ہے۔“
And they said unto them, The LORD look upon you, and judge; because ye have made our savour to be abhorred in the eyes of Pharaoh, and in the eyes of his servants, to put a sword in their hand to slay us.
یہ سن کر موسیٰ رب کے پاس واپس آیا اور کہا، ”اے آقا، تُو نے اِس قوم سے ایسا بُرا سلوک کیوں کیا؟ کیا تُو نے اِسی مقصد سے مجھے یہاں بھیجا ہے؟
And Moses returned unto the LORD, and said, Lord, wherefore hast thou so evil entreated this people? why is it that thou hast sent me?
جب سے مَیں نے فرعون کے پاس جا کر اُسے تیری مرضی بتائی ہے وہ اسرائیلی قوم سے بُرا سلوک کر رہا ہے۔ اور تُو نے اب تک اُنہیں بچانے کا کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔“
For since I came to Pharaoh to speak in thy name, he hath done evil to this people; neither hast thou delivered thy people at all.