مدّتی بعد صدقیای پادشاه کسی را به دنبال من فرستاد و او در کاخ سلطنتی به طور خصوصی از من پرسید: «آیا پیامی از جانب خداوند داری؟» جواب دادم: «آری پیامی دارم. تو به دست پادشاه بابل تسلیم خواهی شد.»
ایک دن صِدقیاہ نے اُسے محل میں بُلایا۔ وہاں علیٰحدگی میں اُس سے پوچھا، ”کیا رب کی طرف سے میرے لئے کوئی پیغام ہے؟“ یرمیاہ نے جواب دیا، ”جی ہاں۔ آپ کو شاہِ بابل کے حوالے کیا جائے گا۔“