Ezekiel 28

رب مجھ سے ہم کلام ہوا،
La parole de l'Eternel me fut adressée, en ces mots:
”اے آدم زاد، صور کے حکمران کو بتا، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ تُو مغرور ہو گیا ہے۔ تُو کہتا ہے کہ مَیں خدا ہوں، مَیں سمندر کے درمیان ہی اپنے تختِ الٰہی پر بیٹھا ہوں۔ لیکن تُو خدا نہیں بلکہ انسان ہے، گو تُو اپنے آپ کو خدا سا سمجھتا ہے۔
Fils de l'homme, dis au prince de Tyr: Ainsi parle le Seigneur, l'Eternel: Ton coeur s'est élevé, et tu as dit: Je suis Dieu, Je suis assis sur le siège de Dieu, au sein des mers! Toi, tu es homme et non Dieu, Et tu prends ta volonté pour la volonté de Dieu.
بےشک تُو اپنے آپ کو دانیال سے کہیں زیادہ دانش مند سمجھ کر کہتا ہے کہ کوئی بھی بھید مجھ سے پوشیدہ نہیں رہتا۔
Voici, tu es plus sage que Daniel, Rien de secret n'est caché pour toi;
اور یہ حقیقت بھی ہے کہ تُو نے اپنی حکمت اور سمجھ سے بہت دولت حاصل کی ہے، سونے اور چاندی سے اپنے خزانوں کو بھر دیا ہے۔
Par ta sagesse et par ton intelligence Tu t'es acquis des richesses, Tu as amassé de l'or et de l'argent Dans tes trésors;
بڑی دانش مندی سے تُو نے تجارت کے ذریعے اپنی دولت بڑھائی۔ لیکن جتنی تیری دولت بڑھتی گئی اُتنا ہی تیرا غرور بھی بڑھتا گیا۔
Par ta grande sagesse et par ton commerce Tu as accru tes richesses, Et par tes richesses ton coeur s'est élevé.
چنانچہ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ چونکہ تُو اپنے آپ کو خدا سا سمجھتا ہے
C'est pourquoi ainsi parle le Seigneur, l'Eternel: Parce que tu prends ta volonté pour la volonté de Dieu,
اِس لئے مَیں سب سے ظالم قوموں کو تیرے خلاف بھیجوں گا جو اپنی تلواروں کو تیری خوب صورتی اور حکمت کے خلاف کھینچ کر تیری شان و شوکت کی بےحرمتی کریں گی۔
Voici, je ferai venir contre toi des étrangers, Les plus violents d'entre les peuples; Ils tireront l'épée contre ton éclatante sagesse, Et ils souilleront ta beauté.
وہ تجھے پاتال میں اُتاریں گی۔ سمندر کے بیچ میں ہی تجھے مار ڈالا جائے گا۔
Ils te précipiteront dans la fosse, Et tu mourras comme ceux qui tombent percés de coups, Au milieu des mers.
کیا تُو اُس وقت اپنے قاتلوں سے کہے گا کہ مَیں خدا ہوں؟ ہرگز نہیں! اپنے قاتلوں کے ہاتھ میں ہوتے وقت تُو خدا نہیں بلکہ انسان ثابت ہو گا۔
En face de ton meurtrier, diras-tu: Je suis Dieu? Tu seras homme et non Dieu Sous la main de celui qui te tuera.
تُو اجنبیوں کے ہاتھوں نامختون کی سی وفات پائے گا۔ یہ میرا، رب قادرِ مطلق کا فرمان ہے‘۔“
Tu mourras de la mort des incirconcis, Par la main des étrangers. Car moi, j'ai parlé, Dit le Seigneur, l'Eternel.
رب مزید مجھ سے ہم کلام ہوا،
La parole de l'Eternel me fut adressée, en ces mots:
”اے آدم زاد، صور کے بادشاہ پر ماتمی گیت گا کر اُس سے کہہ، ’رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ تجھ پر کاملیت کا ٹھپا تھا۔ تُو حکمت سے بھرپور تھا، تیرا حُسن کمال کا تھا۔
Fils de l'homme, Prononce une complainte sur le roi de Tyr! Tu lui diras: Ainsi parle le Seigneur, l'Eternel: Tu mettais le sceau à la perfection, Tu étais plein de sagesse, parfait en beauté.
اللہ کے باغِ عدن میں رہ کر تُو ہر قسم کے جواہر سے سجا ہوا تھا۔ لعل ، زبرجد ، حجر القمر، پکھراج ، عقیقِ احمر اور یشب ، سنگِ لاجورد ، فیروزہ اور زمرد سب تجھے آراستہ کرتے تھے۔ سب کچھ سونے کے کام سے مزید خوب صورت بنایا گیا تھا۔ جس دن تجھے خلق کیا گیا اُسی دن یہ چیزیں تیرے لئے تیار ہوئیں۔
Tu étais en Eden, le jardin de Dieu; Tu étais couvert de toute espèce de pierres précieuses, De sardoine, de topaze, de diamant, De chrysolithe, d'onyx, de jaspe, De saphir, d'escarboucle, d'émeraude, et d'or; Tes tambourins et tes flûtes étaient à ton service, Préparés pour le jour où tu fus créé.
مَیں نے تجھے اللہ کے مُقدّس پہاڑ پر کھڑا کیا تھا۔ وہاں تُو کروبی فرشتے کی حیثیت سے اپنے پَر پھیلائے پہرہ داری کرتا تھا، وہاں تُو جلتے ہوئے پتھروں کے درمیان ہی گھومتا پھرتا رہا۔
Tu étais un chérubin protecteur, aux ailes déployées; Je t'avais placé et tu étais sur la sainte montagne de Dieu; Tu marchais au milieu des pierres étincelantes.
جس دن تجھے خلق کیا گیا تیرا چال چلن بےالزام تھا، لیکن اب تجھ میں ناانصافی پائی گئی ہے۔
Tu as été intègre dans tes voies, Depuis le jour où tu fus créé Jusqu'à celui où l'iniquité a été trouvée chez toi.
تجارت میں کامیابی کی وجہ سے تُو ظلم و تشدد سے بھر گیا اور گناہ کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر مَیں نے تجھے اللہ کے پہاڑ پر سے اُتار دیا۔ مَیں نے تجھے جو پہرہ داری کرنے والا فرشتہ تھا تباہ کر کے جلتے ہوئے پتھروں کے درمیان سے نکال دیا۔
Par la grandeur de ton commerce Tu as été rempli de violence, et tu as péché; Je te précipite de la montagne de Dieu, Et je te fais disparaître, chérubin protecteur, Du milieu des pierres étincelantes.
تیری خوب صورتی تیرے لئے غرور کا باعث بن گئی، ہاں تیری شان و شوکت نے تجھے اِتنا پُھلا دیا کہ تیری حکمت جاتی رہی۔ اِسی لئے مَیں نے تجھے زمین پر پٹخ کر دیگر بادشاہوں کے سامنے تماشا بنا دیا۔
Ton coeur s'est élevé à cause de ta beauté, Tu as corrompu ta sagesse par ton éclat; Je te jette par terre, Je te livre en spectacle aux rois.
اپنے بےشمار گناہوں اور بےانصاف تجارت سے تُو نے اپنے مُقدّس مقاموں کی بےحرمتی کی ہے۔ جواب میں مَیں نے ہونے دیا کہ آگ تیرے درمیان سے نکل کر تجھے بھسم کرے۔ مَیں نے تجھے تماشا دیکھنے والے تمام لوگوں کے سامنے ہی راکھ کر دیا۔
Par la multitude de tes iniquités, Par l'injustice de ton commerce, Tu as profané tes sanctuaires; Je fais sortir du milieu de toi un feu qui te dévore, Je te réduis en cendre sur la terre, Aux yeux de tous ceux qui te regardent.
جتنی بھی قومیں تجھے جانتی تھیں اُن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ تیرا ہول ناک انجام اچانک ہی آ گیا ہے۔ اب سے تُو کبھی نہیں اُٹھے گا‘۔“
Tous ceux qui te connaissent parmi les peuples Sont dans la stupeur à cause de toi; Tu es réduit au néant, tu ne seras plus à jamais!
رب مجھ سے ہم کلام ہوا،
La parole de l'Eternel me fut adressée, en ces mots:
”اے آدم زاد، صیدا کی طرف رُخ کر کے اُس کے خلاف نبوّت کر!
Fils de l'homme, tourne ta face vers Sidon, Et prophétise contre elle!
رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ اے صیدا، مَیں تجھ سے نپٹ لوں گا۔ تیرے درمیان ہی مَیں اپنا جلال دکھاؤں گا۔ تب وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں، کیونکہ مَیں شہر کی عدالت کر کے اپنا مُقدّس کردار اُن پر ظاہر کروں گا۔
Tu diras: Ainsi parle le Seigneur, l'Eternel: Voici, j'en veux à toi, Sidon! Je serai glorifié au milieu de toi; Et ils sauront que je suis l'Eternel, Quand j'exercerai mes jugements contre elle, Quand je manifesterai ma sainteté au milieu d'elle.
مَیں اُس میں مہلک وبا پھیلا کر اُس کی گلیوں میں خون بہا دوں گا۔ اُسے چاروں طرف سے تلوار گھیر لے گی تو اُس میں پھنسے ہوئے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ تب وہ جان لیں گے کہ مَیں ہی رب ہوں۔
J'enverrai la peste dans son sein, Je ferai couler le sang dans ses rues; Les morts tomberont au milieu d'elle Par l'épée qui de toutes parts viendra la frapper. Et ils sauront que je suis l'Eternel.
اِس وقت اسرائیل کے پڑوسی اُسے حقیر جانتے ہیں۔ اب تک وہ اُسے چبھنے والے خار اور زخمی کرنے والے کانٹے ہیں۔ لیکن آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ تب وہ جان لیں گے کہ مَیں رب قادرِ مطلق ہوں۔
Alors elle ne sera plus pour la maison d'Israël Une épine qui blesse, une ronce déchirante, Parmi tous ceux qui l'entourent et qui la méprisent. Et ils sauront que je suis le Seigneur, l'Eternel.
کیونکہ رب قادرِ مطلق فرماتا ہے کہ دیگر اقوام کے دیکھتے دیکھتے مَیں ظاہر کروں گا کہ مَیں مُقدّس ہوں۔ کیونکہ مَیں اسرائیلیوں کو اُن اقوام میں سے نکال کر جمع کروں گا جہاں مَیں نے اُنہیں منتشر کر دیا تھا۔ تب وہ اپنے وطن میں جا بسیں گے، اُس ملک میں جو مَیں نے اپنے خادم یعقوب کو دیا تھا۔
Ainsi parle le Seigneur, l'Eternel: Lorsque je rassemblerai la maison d'Israël du milieu des peuples où elle est dispersée, je manifesterai en elle ma sainteté aux yeux des nations, et ils habiteront leur pays que j'ai donné à mon serviteur Jacob.
وہ حفاظت سے اُس میں رہ کر گھر تعمیر کریں گے اور انگور کے باغ لگائیں گے۔ لیکن جو پڑوسی اُنہیں حقیر جانتے تھے اُن کی مَیں عدالت کروں گا۔ تب وہ جان لیں گے کہ مَیں رب اُن کا خدا ہوں۔“
Ils y habiteront en sécurité, et ils bâtiront des maisons et planteront des vignes; ils y habiteront en sécurité, quand j'exercerai mes jugements contre tous ceux qui les entourent et qui les méprisent. Et ils sauront que je suis l'Eternel, leur Dieu.