Genesis 19

شام کے وقت یہ دو فرشتے سدوم پہنچے۔ لوط شہر کے دروازے پر بیٹھا تھا۔ جب اُس نے اُنہیں دیکھا تو کھڑے ہو کر اُن سے ملنے گیا اور منہ کے بل گر کر سجدہ کیا۔
Přišli pak dva andělé do Sodomy u večer, a Lot seděl v bráně Sodomské. Kteréžto když uzřel, vstav, šel jim v cestu a sklonil se tváří až k zemi.
اُس نے کہا، ”صاحبو، اپنے بندے کے گھر تشریف لائیں تاکہ اپنے پاؤں دھو کر رات کو ٹھہریں اور پھر کل صبح سویرے اُٹھ کر اپنا سفر جاری رکھیں۔“ اُنہوں نے کہا، ”کوئی بات نہیں، ہم چوک میں رات گزاریں گے۔“
A řekl: Aj, prosím páni moji, uchylte se nyní do domu služebníka svého, a zůstaňte přes noc; umyjete také nohy své a ráno vstanouce, půjdete cestou svou. Oni pak odpověděli: Nikoli, ale přenocujeme na ulici.
لیکن لوط نے اُنہیں بہت مجبور کیا، اور آخرکار وہ اُس کے ساتھ اُس کے گھر آئے۔ اُس نے اُن کے لئے کھانا پکایا اور بےخمیری روٹی بنائی۔ پھر اُنہوں نے کھانا کھایا۔
Ale když on je velmi nutil, obrátivše se k němu, vešli do domu jeho. I udělal jim hody, a napekl chlebů přesných, i jedli.
وہ ابھی سونے کے لئے لیٹے نہیں تھے کہ شہر کے جوانوں سے لے کر بوڑھوں تک تمام مردوں نے لوط کے گھر کو گھیر لیا۔
Prvé pak než lehli, muži města toho, muži Sodomští, osuli se vůkol domu toho, od mladého až do starého, všecken lid odevšad.
اُنہوں نے آواز دے کر لوط سے کہا، ”وہ آدمی کہاں ہیں جو رات کے وقت تیرے پاس آئے؟ اُن کو باہر لے آ تاکہ ہم اُن کے ساتھ حرام کاری کریں۔“
I volali na Lota, a řekli jemu: Kde jsou ti muži, kteříž přišli k tobě v noci? Vyveď je k nám, ať je poznáme.
لوط اُن سے ملنے باہر گیا۔ اُس نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیا
I vyšel k nim Lot ven, a zavřel po sobě dvéře.
اور کہا، ”میرے بھائیو، ایسا مت کرو، ایسی بدکاری نہ کرو۔
A řekl: Prosím, bratří moji, nečiňte zlého.
دیکھو، میری دو کنواری بیٹیاں ہیں۔ اُنہیں مَیں تمہارے پاس باہر لے آتا ہوں۔ پھر جو جی چاہے اُن کے ساتھ کرو۔ لیکن اِن آدمیوں کو چھوڑ دو، کیونکہ وہ میرے مہمان ہیں۔“
Aj, mám teď dvě dcery, kteréžto nepoznaly muže; vyvedu je nyní k vám, čiňte s nimi, jak se vám líbí; toliko mužům těmto nic nečiňte, poněvadž vešli pod stín střechy mé.
اُنہوں نے کہا، ”راستے سے ہٹ جا! دیکھو، یہ شخص جب ہمارے پاس آیا تھا تو اجنبی تھا، اور اب یہ ہم پر حاکم بننا چاہتا ہے۔ اب تیرے ساتھ اُن سے زیادہ بُرا سلوک کریں گے۔“ وہ اُسے مجبور کرتے کرتے دروازے کو توڑنے کے لئے آگے بڑھے۔
I řekli: Odejdi tam! A mluvili: Sám se dostal sem pohostinu, a chce nás souditi? Nyní tobě hůř uděláme, než jim. I obořili se násilně na muže toho, totiž na Lota, a přistoupili, aby vylomili dvéře.
لیکن عین وقت پر اندر کے آدمی لوط کو پکڑ کر اندر لے آئے، پھر دروازہ دوبارہ بند کر دیا۔
Tedy muži ti vztáhli ven ruku svou, a uvedli Lota k sobě do domu, a dvéře zavřeli.
اُنہوں نے چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک باہر کے تمام آدمیوں کو اندھا کر دیا، اور وہ دروازے کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے۔
A ty muže, kteříž byli přede dveřmi domu, ranili slepotou velikou, od nejmenšího až do největšího, tak že ustali, hledajíce dveří.
دونوں آدمیوں نے لوط سے کہا، ”کیا تیرا کوئی اَور رشتے دار اِس شہر میں رہتا ہے، مثلاً کوئی داماد یا بیٹا بیٹی؟ سب کو ساتھ لے کر یہاں سے چلا جا،
I řekli muži k Lotovi: Máš-li ještě zde koho, buď zetě neb syny své, neb dcery své, i všecko, což máš v městě, vyveď z místa tohoto.
کیونکہ ہم یہ مقام تباہ کرنے کو ہیں۔ اِس کے باشندوں کی بدی کے باعث لوگوں کی آہیں بلند ہو کر رب کے حضور پہنچ گئی ہیں، اِس لئے اُس نے ہمیں اِس کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے۔“
Nebo zkazíme místo toto, proto že se velmi rozmohl křik jejich před Hospodinem, a poslal nás Hospodin, abychom zkazili je.
لوط گھر سے نکلا اور اپنے دامادوں سے بات کی جن کا اُس کی بیٹیوں کے ساتھ رشتہ ہو چکا تھا۔ اُس نے کہا، ”جلدی کرو، اِس جگہ سے نکلو، کیونکہ رب اِس شہر کو تباہ کرنے کو ہے۔“ لیکن اُس کے دامادوں نے اِسے مذاق ہی سمجھا۔
Vyšed tedy Lot, mluvil k zeťům svým, kteříž již měli pojímati dcery jeho, a řekl: Vstaňte, vyjděte z místa tohoto, nebo zkazí Hospodin město toto. Ale zdálo se zeťům jeho, jako by žertoval.
جب پَو پھٹنے لگی تو دونوں آدمیوں نے لوط کو بہت سمجھایا اور کہا، ”جلدی کر! اپنی بیوی اور دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے کر چلا جا، ورنہ جب شہر کو سزا دی جائے گی تو تُو بھی ہلاک ہو جائے گا۔“
A když zasvitávalo, nutili andělé Lota, řkouce: Vstaň, vezmi ženu svou a dvě dcery své, kteréž tu jsou, abys nezahynul v pomstě města.
توبھی وہ جھجکتا رہا۔ آخرکار دونوں نے لوط، اُس کی بیوی اور بیٹیوں کے ہاتھ پکڑ کر اُنہیں شہر کے باہر تک پہنچا دیا، کیونکہ رب کو لوط پر ترس آتا تھا۔
A když prodléval, chopili muži ruku jeho, a ruku ženy jeho, a ruku dvou dcer jeho, nebo se slitoval nad ním Hospodin; i vyvedli jej, a pustili za městem.
جوں ہی وہ اُنہیں باہر لے آئے اُن میں سے ایک نے کہا، ”اپنی جان بچا کر چلا جا۔ پیچھے مُڑ کر نہ دیکھنا۔ میدان میں کہیں نہ ٹھہرنا بلکہ پہاڑوں میں پناہ لینا، ورنہ تُو ہلاک ہو جائے گا۔“
A stalo se, když je vedli ven, řekl jeden: Zachovejž život svůj, neohlédej se zpět, ani se zastavuj na vší této rovině; ujdi na horu, abys nezahynul.
لیکن لوط نے اُن سے کہا، ”نہیں میرے آقا، ایسا نہ ہو۔
I řekl jim Lot: Ne tak, prosím, páni moji.
تیرے بندے کو تیری نظرِ کرم حاصل ہوئی ہے اور تُو نے میری جان بچانے میں بہت مہربانی کر دکھائی ہے۔ لیکن مَیں پہاڑوں میں پناہ نہیں لے سکتا۔ وہاں پہنچنے سے پہلے یہ مصیبت مجھ پر آن پڑے گی اور مَیں ہلاک ہو جاؤں گا۔
Aj, nyní nalezl služebník tvůj milost před očima tvýma, a veliké jest milosrdenství tvé, kteréž jsi učinil se mnou, když jsi zachoval duši mou; ale jáť nebudu moci ujíti na tu horu, aby mne nepostihlo to zlé, a umřel bych.
دیکھ، قریب ہی ایک چھوٹا قصبہ ہے۔ وہ اِتنا نزدیک ہے کہ مَیں اُس طرف ہجرت کر سکتا ہوں۔ مجھے وہاں پناہ لینے دے۔ وہ چھوٹا ہی ہے، نا؟ پھر میری جان بچے گی۔“
Hle, teď jest toto město blízko, do něhož bych utekl, a toť jest malé; prosím, nechť tam ujdu; však pak neveliké jest, a živa bude duše má.
اُس نے کہا، ”چلو، ٹھیک ہے۔ تیری یہ درخواست بھی منظور ہے۔ مَیں یہ قصبہ تباہ نہیں کروں گا۔
I řekl k němu: Aj, uslyšel jsem žádost tvou i v této věci, abych nepodvrátil města toho, o němž jsi mluvil.
لیکن بھاگ کر وہاں پناہ لے، کیونکہ جب تک تُو وہاں پہنچ نہ جائے مَیں کچھ نہیں کر سکتا۔“ اِس لئے قصبے کا نام ضُغر یعنی چھوٹا ہے۔
Pospěšiž, ujdi tam; neboť nebudu moci učiniti ničehož, dokudž tam nedojdeš. A z té příčiny nazváno jest jméno města toho Ségor.
جب لوط ضُغر پہنچا تو سورج نکلا ہوا تھا۔
Slunce vzcházelo nad zemi, když Lot všel do Ségor.
تب رب نے آسمان سے سدوم اور عمورہ پر گندھک اور آگ برسائی۔
A Hospodin dštil na Sodomu a naGomoru sirou a ohněm od Hospodina s nebe.
یوں اُس نے اُس پورے میدان کو اُس کے شہروں، باشندوں اور تمام ہریالی سمیت تباہ کر دیا۔
A podvrátil ta města i všecku tu rovinu, všecky také obyvatele těch měst, i všecko, což roste z země.
لیکن فرار ہوتے وقت لوط کی بیوی نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو وہ فوراً نمک کا ستون بن گئی۔
I ohlédla se žena jeho, jduc za ním, a obrácena jest v sloup solný.
ابراہیم صبح سویرے اُٹھ کر اُس جگہ واپس آیا جہاں وہ کل رب کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔
Vstav pak Abraham ráno, pospíšil k místu tomu, kdež byl stál před Hospodinem.
جب اُس نے نیچے سدوم، عمورہ اور پوری وادی کی طرف نظر کی تو وہاں سے بھٹے کا سا دھواں اُٹھ رہا تھا۔
A pohleděv k Sodomě a Gomoře,i na všecku zemi té roviny, uzřel, a aj, vystupoval dým z země té, jako dým z vápenice.
یوں اللہ نے ابراہیم کو یاد کیا جب اُس نے اُس میدان کے شہر تباہ کئے۔ کیونکہ اُس نے اُنہیں تباہ کرنے سے پہلے لوط کو جو اُن میں آباد تھا وہاں سے نکال لایا۔
Stalo se tedy, když kazil Bůh města té roviny, že se rozpomenul Bůh na Abrahama, a vytrhl Lota z prostředku podvrácení, když podvracel města, v nichž bydlil Lot.
لوط اور اُس کی بیٹیاں زیادہ دیر تک ضُغر میں نہ ٹھہرے۔ وہ روانہ ہو کر پہاڑوں میں آباد ہوئے، کیونکہ لوط ضُغر میں رہنے سے ڈرتا تھا۔ وہاں اُنہوں نے ایک غار کو اپنا گھر بنا لیا۔
Potom vyšel Lot z Ségor, a bydlil na hoře té, a obě dvě dcery jeho s ním; nebo nesměl bydliti v Ségor. I bydlil v jeskyni s oběma dcerami svými.
ایک دن بڑی بیٹی نے چھوٹی سے کہا، ”ابو بوڑھا ہے اور یہاں کوئی مرد ہے نہیں جس کے ذریعے ہمارے بچے پیدا ہو سکیں۔
I řekla prvorozená k mladší: Otec náš jest již starý, a není žádného muže na zemi, ješto by všel k nám podlé obyčeje vší země.
آؤ، ہم ابو کو مَے پلائیں۔ جب وہ نشے میں دُھت ہو تو ہم اُس کے ساتھ ہم بستر ہو کر اپنے لئے اولاد پیدا کریں تاکہ ہماری نسل قائم رہے۔“
Poď, dejme píti otci našemu vína, a spěme s ním, abychom zachovaly z otce našeho símě.
اُس رات اُنہوں نے اپنے باپ کو مَے پلائی۔ جب وہ نشے میں تھا تو بڑی بیٹی اندر جا کر اُس کے ساتھ ہم بستر ہوئی۔ چونکہ لوط ہوش میں نہیں تھا اِس لئے اُسے کچھ بھی معلوم نہ ہوا۔
I daly píti otci svému vína té noci; a všedši prvorozená, spala s otcem svým, kterýžto necítil, ani když lehla, ani když vstala.
اگلے دن بڑی بہن نے چھوٹی بہن سے کہا، ”پچھلی رات مَیں ابو سے ہم بستر ہوئی۔ آؤ، آج رات کو ہم اُسے دوبارہ مَے پلائیں۔ جب وہ نشے میں دُھت ہو تو تم اُس کے ساتھ ہم بستر ہو کر اپنے لئے اولاد پیدا کرنا تاکہ ہماری نسل قائم رہے۔“
Nazejtří pak řekla prvorozená k mladší: Aj, spala jsem včerejší noci s otcem svým; dejme mu píti vína ještě této noci; potom vejduc, spi s ním, a zachovejme símě z otce našeho.
چنانچہ اُنہوں نے اُس رات بھی اپنے باپ کو مَے پلائی۔ جب وہ نشے میں تھا تو چھوٹی بیٹی اُٹھ کر اُس کے ساتھ ہم بستر ہوئی۔ اِس بار بھی وہ ہوش میں نہیں تھا، اِس لئے اُسے کچھ بھی معلوم نہ ہوا۔
I daly píti ještě té noci otci svému vína; a vstala ta mladší, a spala s ním; on pak necítil, ani když ona lehla, ani když vstala.
یوں لوط کی بیٹیاں اپنے باپ سے اُمید سے ہوئیں۔
A tak počaly obě dcery Lotovy z otce svého.
بڑی بیٹی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے اُس کا نام موآب رکھا۔ اُس سے موآبی نکلے ہیں۔
I porodila prvorozená syna, a nazvala jméno jeho Moáb; onť jest otec Moábských až do dnešního dne.
چھوٹی بیٹی کے ہاں بھی بیٹا پیدا ہوا۔ اُس نے اُس کا نام بن عمی رکھا۔ اُس سے عمونی نکلے ہیں۔
I mladší také porodila syna, a nazvala jméno jeho Ben Ammon; onť jest otcem Ammonitských až do dnešního dne.