Isaiah 13

Oracle sur Babylone, révélé à Esaïe, fils d'Amots.
درجِ ذیل بابل کے بارے میں وہ اعلان ہے جو یسعیاہ بن آموص نے رویا میں دیکھا۔
Sur une montagne nue dressez une bannière, Elevez la voix vers eux, Faites des signes avec la main, Et qu'ils franchissent les portes des tyrans!
ننگے پہاڑ پر جھنڈا گاڑ دو۔ اُنہیں بلند آواز دو، ہاتھ ہلا کر اُنہیں شرفا کے دروازوں میں داخل ہونے کا حکم دو۔
J'ai donné des ordres à ma sainte milice, J'ai appelé les héros de ma colère, Ceux qui se réjouissent de ma grandeur.
مَیں نے اپنے مُقدّسین کو کام پر لگا دیا ہے، مَیں نے اپنے سورماؤں کو جو میری عظمت کی خوشی مناتے ہیں بُلا لیا ہے تاکہ میرے غضب کا آلۂ کار بنیں۔
On entend une rumeur sur les montagnes, Comme celle d'un peuple nombreux; On entend un tumulte de royaumes, de nations rassemblées: L'Eternel des armées passe en revue l'armée qui va combattre.
سنو! پہاڑوں پر بڑے ہجوم کا شور مچ رہا ہے۔ سنو! متعدد ممالک اور جمع ہونے والی قوموں کا غل غپاڑا سنائی دے رہا ہے۔ رب الافواج جنگ کے لئے فوج جمع کر رہا ہے۔
Ils viennent d'un pays lointain, De l'extrémité des cieux: L'Eternel et les instruments de sa colère Vont détruire toute la contrée.
اُس کے فوجی دُوردراز علاقوں بلکہ آسمان کی انتہا سے آ رہے ہیں۔ کیونکہ رب اپنے غضب کے آلات کے ساتھ آ رہا ہے تاکہ تمام ملک کو برباد کر دے۔
Gémissez, car le jour de l'Eternel est proche: Il vient comme un ravage du Tout-Puissant.
واویلا کرو، کیونکہ رب کا دن قریب ہی ہے، وہ دن جب قادرِ مطلق کی طرف سے تباہی مچے گی۔
C'est pourquoi toutes les mains s'affaiblissent, Et tout coeur d'homme est abattu.
تب تمام ہاتھ بےحس و حرکت ہو جائیں گے، اور ہر ایک کا دل ہمت ہار دے گا۔
Ils sont frappés d'épouvante; Les spasmes et les douleurs les saisissent; Ils se tordent comme une femme en travail; Ils se regardent les uns les autres avec stupeur; Leurs visages sont enflammés.
دہشت اُن پر چھا جائے گی، اور وہ جاں کنی اور دردِ زہ کی سی گرفت میں آ کر جنم دینے والی عورت کی طرح تڑپیں گے۔ ایک دوسرے کو ڈر کے مارے گھور گھور کر اُن کے چہرے آگ کی طرح تمتما رہے ہوں گے۔
Voici, le jour de l'Eternel arrive, Jour cruel, jour de colère et d'ardente fureur, Qui réduira la terre en solitude, Et en exterminera les pécheurs.
دیکھو، رب کا بےرحم دن آ رہا ہے جب اُس کا قہر اور شدید غضب نازل ہو گا۔ اُس وقت ملک تباہ ہو جائے گا اور گناہ گار کو اُس میں سے مٹا دیا جائے گا۔
Car les étoiles des cieux et leurs astres Ne feront plus briller leur lumière, Le soleil s'obscurcira dès son lever, Et la lune ne fera plus luire sa clarté.
آسمان کے ستارے اور اُن کے جھرمٹ نہیں چمکیں گے، سورج طلوع ہوتے وقت تاریک ہی رہے گا، اور چاند کی روشنی ختم ہو گی۔
Je punirai le monde pour sa malice, Et les méchants pour leurs iniquités; Je ferai cesser l'orgueil des hautains, Et j'abattrai l'arrogance des tyrans.
مَیں دنیا کو اُس کی بدکاری کا اجر اور بےدینوں کو اُن کے گناہوں کی سزا دوں گا، مَیں شوخوں کا گھمنڈ ختم کر دوں گا اور ظالموں کا غرور خاک میں ملا دوں گا۔
Je rendrai les hommes plus rares que l'or fin, Je les rendrai plus rares que l'or d'Ophir.
لوگ خالص سونے سے کہیں زیادہ نایاب ہوں گے، انسان اوفیر کے قیمتی سونے کی نسبت کہیں زیادہ کم یاب ہو گا۔
C'est pourquoi j'ébranlerai les cieux, Et la terre sera secouée sur sa base, Par la colère de l'Eternel des armées, Au jour de son ardente fureur.
کیونکہ آسمان رب الافواج کے قہر کے سامنے کانپ اُٹھے گا، اُس کے شدید غضب کے نازل ہونے پر زمین لرز کر اپنی جگہ سے کھسک جائے گی۔
Alors, comme une gazelle effarouchée, Comme un troupeau sans berger, Chacun se tournera vers son peuple, Chacun fuira vers son pays;
بابل کے تمام باشندے شکاری کے سامنے دوڑنے والے غزال اور چرواہے سے محروم بھیڑبکریوں کی طرح اِدھر اُدھر بھاگ کر اپنے ملک اور اپنی قوم میں واپس آنے کی کوشش کریں گے۔
Tous ceux qu'on trouvera seront percés, Et tous ceux qu'on saisira tomberont par l'épée.
جو بھی دشمن کے قابو میں آئے گا اُسے چھیدا جائے گا، جسے بھی پکڑا جائے گا اُسے تلوار سے مارا جائے گا۔
Leurs enfants seront écrasés sous leurs yeux, Leurs maisons seront pillées, et leurs femmes violées.
اُن کے دیکھتے دیکھتے دشمن اُن کے بچوں کو زمین پر پٹخ دے گا اور اُن کے گھروں کو لُوٹ کر اُن کی عورتوں کی عصمت دری کرے گا۔
Voici, j'excite contre eux les Mèdes, Qui ne font point cas de l'argent, Et qui ne convoitent point l'or.
مَیں مادیوں کو اُن پر چڑھا لاؤں گا، ایسے لوگوں کو جنہیں رشوت سے نہیں آزمایا جا سکتا، جو سونے چاندی کی پروا ہی نہیں کرتے۔
De leurs arcs ils abattront les jeunes gens, Et ils seront sans pitié pour le fruit des entrailles: Leur oeil n'épargnera point les enfants.
اُن کے تیر نوجوانوں کو مار دیں گے۔ نہ وہ شیرخواروں پر ترس کھائیں گے، نہ بچوں پر رحم کریں گے۔
Et Babylone, l'ornement des royaumes, La fière parure des Chaldéens, Sera comme Sodome et Gomorrhe, que Dieu détruisit.
اللہ بابل کو جو تمام ممالک کا تاج اور بابلیوں کا خاص فخر ہے رُوئے زمین پر سے مٹا ڈالے گا۔ اُس دن وہ سدوم اور عمورہ کی طرح تباہ ہو جائے گا۔
Elle ne sera plus jamais habitée, Elle ne sera plus jamais peuplée; L'Arabe n'y dressera point sa tente, Et les bergers n'y parqueront point leurs troupeaux.
آئندہ اُسے کبھی دوبارہ بسایا نہیں جائے گا، نسل در نسل وہ ویران ہی رہے گا۔ نہ بَدُو اپنا تنبو وہاں لگائے گا، اور نہ گلہ بان اپنے ریوڑ اُس میں ٹھہرائے گا۔
Les animaux du désert y prendront leur gîte, Les hiboux rempliront ses maisons, Les autruches en feront leur demeure Et les boucs y sauteront.
صرف ریگستان کے جانور کھنڈرات میں جا بسیں گے۔ شہر کے گھر اُن کی آوازوں سے گونج اُٹھیں گے، عقابی اُلّو وہاں ٹھہریں گے، اور بکرانما جِنّ اُس میں رقص کریں گے۔
Les chacals hurleront dans ses palais, Et les chiens sauvages dans ses maisons de plaisance. Son temps est près d'arriver, Et ses jours ne se prolongeront pas.
جنگلی کُتے اُس کے محلوں میں روئیں گے، اور گیدڑ عیش و عشرت کے قصروں میں اپنی درد بھری آوازیں نکالیں گے۔ بابل کا خاتمہ قریب ہی ہے، اب دیر نہیں لگے گی۔