Deuteronomy 9

«ای قوم اسرائیل بشنوید! شما امروز باید از رود اردن عبور کنید تا سرزمین آن طرف دریا را تصرّف کنید. مردمی که در آنجا زندگی می‌کنند بزرگتر و قویتر از شما هستند و شهرهای مستحکم و سر به فلک کشیده دارند.
سن اے اسرائیل! آج تُو دریائے یردن کو پار کرنے والا ہے۔ دوسری طرف تُو ایسی قوموں کو بھگا دے گا جو تجھ سے بڑی اور طاقت ور ہیں اور جن کے شاندار شہروں کی فصیلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔
آنها مردمی قد بلند و قوی هستند، آنها غولند و شما شنیده‌اید که می‌گویند کیست که بتواند در برابر فرزندان عناق مقاومت کند.
وہاں عناقی بستے ہیں جو طاقت ور اور درازقد ہیں۔ تُو خود جانتا ہے کہ اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے، ”کون عناقیوں کا سامنا کر سکتا ہے؟“
بدانید امروز خداوند خدایتان پیش از شما مانند آتش سوزند‌ه‌ای به آنجا وارد می‌شود و آنها را نابود می‌کند و در مقابل شما تسلیم می‌سازد تا شما طبق وعدهٔ خداوند آنها را بیرون کنید و به سرعت نابود سازید.
لیکن آج جان لے کہ رب تیرا خدا تیرے آگے آگے چلتے ہوئے اُنہیں بھسم کر دینے والی آگ کی طرح ہلاک کرے گا۔ وہ تیرے آگے آگے اُن پر قابو پائے گا، اور تُو اُنہیں نکال کر جلدی مٹا دے گا، جس طرح رب نے وعدہ کیا ہے۔
«وقتی خداوند خدایتان آنها را از سر راهتان دور کرد، نگویید: 'چون ما مردمی نیک هستیم، خداوند ما را به اینجا آورد تا آن را تصرّف کنیم.' بلکه به سبب شرارت ساکنان آنجا بود که خداوند آنها را از آنجا بیرون راند.
جب رب تیرا خدا اُنہیں تیرے سامنے سے نکال دے گا تو تُو یہ نہ کہنا، ”مَیں راست باز ہوں، اِسی لئے رب مجھے لائق سمجھ کر یہاں لایا اور یہ ملک میراث میں دے دیا ہے۔“ یہ بات ہرگز درست نہیں ہے۔ رب اُن قوموں کو اُن کی غلط حرکتوں کی وجہ سے تیرے سامنے سے نکال دے گا۔
به‌خاطر عدالت و پاکی شما نیست که شما این سرزمین را تصرّف خواهید کرد، بلکه به دلیل شرارت این اقوام است که خداوند آنها را از پیش شما بیرون می‌کند تا وعد‌ه‌ای را که خداوند به نیاکان شما، یعنی ابراهیم، اسحاق و یعقوب داده است، عملی سازد.
تُو اپنی راست بازی اور دیانت داری کی بنا پر اُس ملک پر قبضہ نہیں کرے گا بلکہ رب اُنہیں اُن کی شریر حرکتوں کے باعث تیرے سامنے سے نکال دے گا۔ دوسرے، جو وعدہ اُس نے تیرے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے ساتھ قَسم کھا کر کیا تھا اُسے پورا ہونا ہے۔
باز می‌گویم که خداوند خدایتان به‌خاطر اینکه شما مردم نیكی هستید، این سرزمین حاصلخیز را به شما نمی‌دهد. شما برعکس قوم سرکشی هستید.
چنانچہ جان لے کہ رب تیرا خدا تجھے تیری راستی کے باعث یہ اچھا ملک نہیں دے رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تُو ہٹ دھرم قوم ہے۔
«به‌خاطر داشته باشید و فراموش نکنید که چطور آتشِ خشم خداوند خدایتان را در بیابان برافروختید. از همان روزی که شما از سرزمین مصر خارج شدید و به این سرزمین آمدید، بارها در مقابل خداوند سرکشی کرده‌اید.
یاد رکھ اور کبھی نہ بھول کہ تُو نے ریگستان میں رب اپنے خدا کو کس طرح ناراض کیا۔ مصر سے نکلتے وقت سے لے کر یہاں پہنچنے تک تم رب سے سرکش رہے ہو۔
حتّی در کوه سینا هم او را به حدّی خشمگین ساختید که می‌خواست شما را از بین ببرد.
خاص کر حورب یعنی سینا کے دامن میں تم نے رب کو اِتنا غصہ دلایا کہ وہ تمہیں ہلاک کرنے کو تھا۔
هنگامی‌که به بالای کوه رفتم تا لوح‌های سنگی، یعنی لوح‌های پیمانی را که خداوند با شما بست بگیرم، مدّت چهل شبانه‌روز گرسنه و تشنه در آنجا ماندم.
اُس وقت مَیں پہاڑ پر چڑھ گیا تھا تاکہ پتھر کی تختیاں یعنی اُس عہد کی تختیاں مل جائیں جو رب نے تمہارے ساتھ باندھا تھا۔ کچھ کھائے پیئے بغیر مَیں 40 دن اور رات وہاں رہا۔
خداوند، دو لوح سنگی را که با انگشت خود نوشته شده بود، به من داد و بر آنها تمام سخنانی که خداوند در روز اجتماع، در کوه از میان آتش به شما گفته بود، نوشته بود.
جو کچھ رب نے آگ میں سے کہا تھا جب تم پہاڑ کے دامن میں جمع تھے وہی کچھ اُس نے اپنی اُنگلی سے دونوں تختیوں پر لکھ کر مجھے دیا۔
خداوند بعد از چهل شبانه‌روز، این دو لوح سنگی یعنی لوح‌های پیمان را به من داد.
جو کچھ رب نے آگ میں سے کہا تھا جب تم پہاڑ کے دامن میں جمع تھے وہی کچھ اُس نے اپنی اُنگلی سے دونوں تختیوں پر لکھ کر مجھے دیا۔
«بعد خداوند به من فرمود: 'فوراً برخیز و پایین برو، زیرا آن مردمی را که از سرزمین مصر آوردی، همه فاسد شده‌اند. به سرعت از راهی که من به آنها نشان داده بودم، منحرف شده و برای خود بُتی ساخته‌اند.'
اُس نے مجھ سے کہا، ”فوراً یہاں سے اُتر جا۔ تیری قوم جسے تُو مصر سے نکال لایا بگڑ گئی ہے۔ وہ کتنی جلدی سے میرے احکام سے ہٹ گئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے لئے بُت ڈھال لیا ہے۔
«خداوند چنین فرمود: 'این قوم واقعاً مردمی سرکش هستند.
مَیں نے جان لیا ہے کہ یہ قوم کتنی ضدی ہے۔
پس مرا بگذار که آنها را از بین ببرم و نامشان را از صفحهٔ روزگار محو کنم. آنگاه برای تو قومی قویتر و بزرگتر از آنها به وجود می‌آورم.'
اب مجھے چھوڑ دے تاکہ مَیں اُنہیں تباہ کر کے اُن کا نام و نشان دنیا میں سے مٹا ڈالوں۔ اُن کی جگہ مَیں تجھ سے ایک قوم بنا لوں گا جو اُن سے بڑی اور طاقت ور ہو گی۔“
«درحالی‌که کوه شعله‌ور بود، من دو لوح پیمان خداوند را در دست داشتم و از کوه پایین آمدم.
مَیں مُڑ کر پہاڑ سے اُترا جو اب تک بھڑک رہا تھا۔ میرے ہاتھوں میں عہد کی دونوں تختیاں تھیں۔
آنگاه وقتی بت گوساله‌ای را که ساخته بودید دیدم، دانستم که شما به راستی در مقابل خداوند گناه ورزیده‌اید و خیلی زود از احکام خداوند سرپیچی کرده‌اید.
تمہیں دیکھتے ہی مجھے معلوم ہوا کہ تم نے رب اپنے خدا کا گناہ کیا ہے۔ تم نے اپنے لئے بچھڑے کا بُت ڈھال لیا تھا۔ تم کتنی جلدی سے رب کی مقررہ راہ سے ہٹ گئے تھے۔
من لوح‌هایی را که در دست داشتم در برابر چشمانتان بر زمین زده شکستم.
تب مَیں نے تمہارے دیکھتے دیکھتے دونوں تختیوں کو زمین پر پٹخ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
بار دیگر مدّت چهل شبانه‌روز در حضور خداوند رو به خاک افتادم. نه نان خوردم و نه یک قطره آب نوشیدم. زیرا به‌خاطر گناه شما و کارهای زشتی که کرده بودید، خداوند را به خشم آوردید.
ایک اَور بار مَیں رب کے سامنے منہ کے بل گرا۔ مَیں نے نہ کچھ کھایا، نہ کچھ پیا۔ 40 دن اور رات مَیں تمہارے تمام گناہوں کے باعث اِسی حالت میں رہا۔ کیونکہ جو کچھ تم نے کیا تھا وہ رب کو نہایت بُرا لگا، اِس لئے وہ غضب ناک ہو گیا تھا۔
من می‌ترسیدم که خداوند از شدّت خشم، شما را نابود سازد، امّا خداوند بار دیگر دعایم را قبول کرد.
وہ تم سے اِتنا ناراض تھا کہ مَیں بہت ڈر گیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔ لیکن اِس بار بھی اُس نے میری سن لی۔
خداوند چنان بر هارون هم خشمگین شد که می‌خواست او را هلاک کند، امّا من شفاعت او را نیز کردم.
مَیں نے ہارون کے لئے بھی دعا کی، کیونکہ رب اُس سے بھی نہایت ناراض تھا اور اُسے ہلاک کر دینا چاہتا تھا۔
بعد گوساله‌ای‌ را که شما ساخته بودید در آتش سوزاندم و آن را خُرد کرده خوب ساییدم تا مانند غبار نرم شد و آن را در نهری که از کوه جاری بود ریختم.
جو بچھڑا تم نے گناہ کر کے بنایا تھا اُسے مَیں نے جلا دیا، پھر جو کچھ باقی رہ گیا اُسے کچل دیا اور پیس پیس کر پاؤڈر بنا دیا۔ یہ پاؤڈر مَیں نے اُس چشمے میں پھینک دیا جو پہاڑ پر سے بہہ رہا تھا۔
«در تبعیره، مَسّا، قبروت و هتاوه هم خشم خداوند را برافروختید.
تم نے رب کو تبعیرہ، مسّہ اور قبروت ہتاوہ میں بھی غصہ دلایا۔
وقتی‌که خداوند در قادش برنیع به شما گفت: 'به سرزمینی که به شما داده‌ام بروید و آن را تصاحب کنید،' شما امر خداوند خدایتان را بجا نیاوردید؛ به او اعتماد ننموده، و از او اطاعت نکردید.
قادس برنیع میں بھی ایسا ہی ہوا۔ وہاں سے رب نے تمہیں بھیج کر کہا تھا، ”جاؤ، اُس ملک پر قبضہ کرو جو مَیں نے تمہیں دے دیا ہے۔“ لیکن تم نے سرکش ہو کر رب اپنے خدا کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ تم نے اُس پر اعتماد نہ کیا، نہ اُس کی سنی۔
از روزی که شما را می‌شناسم، علیه خداوند سرکشی کرده‌اید.
جب سے مَیں تمہیں جانتا ہوں تمہارا رب کے ساتھ رویہ باغیانہ ہی رہا ہے۔
«چون خداوند می‌خواست شما را از بین ببرد، من مدّت چهل شبانه‌روز در حضور او به خاک افتادم
مَیں 40 دن اور رات رب کے سامنے زمین پر منہ کے بل رہا، کیونکہ رب نے کہا تھا کہ وہ تمہیں ہلاک کر دے گا۔
و به درگاه او دعا کردم و گفتم: 'ای خداوند، خدای من، این مردم را که قوم تو هستند با قدرت عظیمت از مصر نجات دادی.
مَیں نے اُس سے منت کر کے کہا، ”اے رب قادرِ مطلق، اپنی قوم کو تباہ نہ کر۔ وہ تو تیری ہی ملکیت ہے جسے تُو نے فدیہ دے کر اپنی عظیم قدرت سے بچایا اور بڑے اختیار کے ساتھ مصر سے نکال لایا۔
بندگانت ابراهیم، اسحاق و یعقوب را به‌یاد آور و از سرکشی، شرارت و گناه این مردم چشم بپوش،
اپنے خادموں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کر، اور اِس قوم کی ضد، شریر حرکتوں اور گناہ پر توجہ نہ دے۔
زیرا مردم مصر خواهند گفت: چون خداوند نتوانست آنها را به سرزمینی که وعده داده بود برساند و به‌خاطر اینکه از آنها نفرت داشت آنها را از اینجا بیرون برد تا در بیابان هلاک شوند.
ورنہ مصری کہیں گے، ’رب اُنہیں اُس ملک میں لانے کے قابل نہیں تھا جس کا وعدہ اُس نے کیا تھا، بلکہ وہ اُن سے نفرت کرتا تھا۔ ہاں، وہ اُنہیں ہلاک کرنے کے لئے ریگستان میں لے آیا۔‘
امّا این مردم، قوم تو هستند و تو آنها را با قدرت و بازوی توانایت به اینجا آوردی.'
وہ تو تیری قوم ہیں، تیری ملکیت جسے تُو اپنی عظیم قدرت اور اختیار سے مصر سے نکال لایا۔“